• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امتحانات سے قبل کنٹرولر کی اچانک تعیناتی، کراچی بورڈ میں انتظامی پیچیدگیوں کا خدشہ

کراچی (سید محمد عسکری) میٹرک کے سالانہ امتحانات کے آغاز سے محض چار روز قبل لاڑکانہ بورڈ کے انسپیکٹر اسکولز و کالجز احمد خان چھٹو کو بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی میں کنٹرولر امتحانات تعینات کر دیا گیا ہے، جس نے انتظامی سطح پر کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔احمد خان چھٹو کو اس سے قبل انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی میں بھی تعینات کیا گیا تھا، تاہم وہاں ملازمین کی شدید مزاحمت کے باعث انہیں جوائننگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر انہیں واپس بھیج دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ میٹرک بورڈ کراچی ملک کا سب سے بڑا تعلیمی بورڈ ہے جہاں سالانہ بنیادوں پر تقریباً چار لاکھ طلبہ امتحانات میں شریک ہوتے ہیں۔ ایسے حساس مرحلے پر نئی تعیناتی کو ماہرین غیر معمولی اور غیر موزوں قرار دے رہے ہیں۔مزید برآں، سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں کنٹرولرز، سیکریٹریز اور آڈٹ افسران کی تقرری کے لیے قواعد و ضوابط تیار کیے جا چکے ہیں، جنہیں منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کو ارسال بھی کیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود، بورڈ کے اندر موجود تجربہ کار افسران کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک ایسے افسر کو تعینات کرنا جو امتحانی امور کا تجربہ نہیں رکھتے، تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میٹرک امتحانات 7 اپریل سے شروع ہو رہے ہیں، نیا گریڈنگ سسٹم بھی متعارف کرایا جا چکا ہے، جبکہ تاحال طلبہ کو ایڈمٹ کارڈز بھی جاری نہیں کیے گئے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان عوامل کے باعث امتحانی عمل مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید