• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی بات نہ ماننے پر فوجی سپہ سالار اور 2 جنرل برطرف

کراچی (رفیق مانگٹ) صدر ٹرمپ کی بات نہ ماننے پرامریکی فوج کے سپہ سالارجنرل رینڈی جارج ‘میجرجنرل ولیم گرین اورجنرل ڈیوڈہوڈن برطرف ‘امریکا کی طاقتور ریاستی مشینری میںکابینہ سے لے کر فوج اور وفاقی ایجنسیوں تک بڑے پیمانے پر برطرفیاں، مزید شخصیات بھی جلد ہٹائی جا سکتی ہیں، کاش پٹیل، ڈینیئل ڈرسکل، لوری شاویز ڈی ریمر شامل، وزیر دفاع دو درجن سے زیادہ سینئر فوجی افسران فارغ کرچکے‘ایپسٹین فائلز اور سست روی نے ٹرمپ کا اعتماد توڑ دیا‘ آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج برطرف‘مکمل وفاداری نہ ہونے کا الزام چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل چارلس براؤن ،نیوی چیف ایڈمرل لیزا فرانشیٹی ،کوسٹ گارڈ کمانڈنٹ ایڈمرل لنڈا فگن ٹرمپ پالیسیوں سے اختلاف پر فارغ,میجر جنرل ولیم گرین اور جنرل ڈیوڈ ہوڈن بھی ٹرمپ وژن سے اختلاف پر برطرف۔امریکا کی طاقتور ریاستی مشینری میں ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت نے ایک ایسا طوفان برپا کر دیا ہے جس میں اعلیٰ افسران، فوجی قیادت، محکماتی سربراہان اور نگران اداروں کے ستون تاش کے پتوں کی طرح گرتے جا رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل پام بانڈی کی برطرفی کے بعدکابینہ کے سیکریٹریز اور دیگر سینئر حکام پریشانی میں مبتلا ، سب اپنے فون دیکھتے رہے کہ کہیں اگلا نمبر ان کا نہ ہو۔ مزید شخصیات بھی جلد ہٹائی جا سکتی ہیں، جن میں شامل ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل ،سیکریٹری آرمی ڈینیئل ڈرسکل اوروزیرِ محنت لوری شاویز ڈی ریمر ہیں۔محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوئم کو متنازع بیانات، مالی بے ضابطگیوں اور امیگریشن نفاذ پر شدید ردعمل کے باعث ہٹایا گیا، جبکہ اٹارنی جنرل پام بانڈی کو ایپسٹین فائلز، سست روی اور ریکارڈز کی خامیوں کے الزامات میں برطرف کیا گیا۔ سی ڈی سی ڈائریکٹر سوسن موناریز نے غیر سائنسی ہدایات منظور کرنے سے انکار کیا تو انہیں بھی فارغ کر دیا گیا، جس کے بعد تین سینئر رہنماؤں نے استعفیٰ دے دیا۔ آئی آر ایس کمشنر بلی لانگ کو صرف دو ماہ بعد غلط بیانات اور ٹریژری سیکریٹری سے اختلافات کے باعث ہٹایا گیا۔ قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز سگنیل گیٹ اور ایران پر سخت مؤقف کے باعث برطرف ہوئے، جبکہ فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی(فیما) کے قائم مقام سربراہ کیمرون ہیملٹن کو ایجنسی کو ختم کرنے کی حکومتی پالیسی کے خلاف بیان دینے پر ہٹا دیا گیا۔ کانگریس کی لائبریرین ڈاکٹر کارلا ہیڈن کو نامناسب کتابوں اور ہر طرح کے لوگوں کو شامل،انصاف پر مبنی برابری اورسب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی( DEI ) پر مبینہ اضافی فوکس کے الزام میں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس دوران 17 انسپکٹر جنرلز کو ایک مختصر ای میل کے ذریعے برطرف کر دیا گیا، جسے قانونی طور پر مشکوک قرار دیا گیا۔ فوج میں دو درجن سے زیادہ اعلیٰ افسران جن میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل چارلس سی کیو براؤن، چیف آف نیول آپریشنز ایڈمرل لیزا فرانشیٹی، کوسٹ گارڈ کی کمانڈنٹ ایڈمرل لنڈا فگن، آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج،میجر جنرل ولیم گرین اور جنرل ڈیوڈ ہوڈن کو ٹرمپ ایجنڈے سے مکمل ہم آہنگی نہ رکھنے پر فارغ کیا گیا۔ مجموعی طور پر یہ تمام اقدامات وفاداری، امریکا فرسٹ اور اینٹیDEI پالیسیوں سے پیوستہ سمجھے جا رہے ہیں، جنہوں نے سیاسی تنازع، عدالتی چیلنجز اور حکمرانی کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جب کہ صرف 2025 میں 3 لاکھ 52 ہزار سے زیادہ وفاقی ملازمین نظام سے باہر ہو گئے۔ تفصیلی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی سربراہی میں امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ دو درجن سے زائد سینئر فوجی افسران کو ہٹا دیا گیا، جن میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل چارلس سی کیو براؤن، چیف آف نیول آپریشنز ایڈمرل لیزا فرانشیٹی، اور کوسٹ گارڈ کی کمانڈنٹ ایڈمرل لنڈا فگن شامل ہیں۔ رواں ماہ میں آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو بھی برطرف کیا گیا، مبینہ طور پر اس لیے کہ ہیگستھ ایسا شخص چاہتے تھے جو ٹرمپ انتظامیہ کے وژن پر مکمل عمل کرے۔ ان کے ساتھ میجر جنرل ولیم گرین اور جنرل ڈیوڈ ہوڈن کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ مارچ 2026 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر داخلہ برائے قومی سلامتی کرسٹی نوئم کو عہدے سے ہٹا دیا یہ کابینہ میں پہلی برطرفی تھی۔اور ان کی جگہ اوکلاہوما کے سینیٹر مارک وین ملن کو نامزد کیا۔ برطرفی کی فوری وجہ کانگریس میں ہونے والی دو روزہ سماعت قرار پائی، جہاں نوئم نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر نے ان کی متنازع اشتہاری مہم کی منظوری دی تھی، جسے ٹرمپ نے سختی سے رد کر دیا۔ اپریل کو صدر ٹرمپ نے اپنی دیرینہ سیاسی اتحادی اور وفاقی وزیر قانون پام بانڈی کو برطرف کر دیا۔ ٹرمپ کے مطابق بانڈی نے “ایپسٹین فائلز” میں وائٹ ہاؤس کے دفاع کی قیادت کی، جبکہ سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات چلانے میں ناکام رہیں۔ بانڈی پر سست روی، ریکارڈز میں خامیوں، اور ایپسٹین کیس میں مبینہ بدانتظامی کے الزامات بھی لگے، جنہوں نے قدامت پسند حلقوں میں بھی ناراضی پیدا کی۔ مارچ میں سی ڈی سی کی ڈائریکٹر سوسن موناریز کو اس وقت برطرف کیا گیا جب انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا۔

اہم خبریں سے مزید