تہران /دبئی /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک)ایران میں امریکا اور اسرائیل کا یونیورسٹی اور ہوائی اڈے پر حملہ ‘تہران میں تین شہری شہید ‘تہران کے جوابی وار ‘اسرائیلی ریلوے اسٹیشن ‘ فوجی سپورٹ سینٹرز‘کویت میں آئل ریفائنری ‘توانائی اورپانی کی تنصیبات ‘ابوظبی میں گیس کمپلیکس اوردبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ڈیٹا سینٹرکو نشانہ بنایاگیاہے ۔ادھر ایران نے جمعہ کو اپنی فضائی حدود میں امریکا کے دو لڑاکا طیارے مارگرائے ہیں جبکہ تلاش مشن پر مامور دوامریکی ہیلی کاپٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے‘ ذرائع کے مطابق F-15Eجنگی طیارے کے دو پائلٹس میں سے ایک کو امریکی اسپیشل فورسز نے پہلے ہی بچا لیا ہے تاہم دوسرے کی تلاش اب بھی جاری ہے۔دوسری جانب ایرانی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک امریکی پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ادھرتہران نے امریکا کی 48گھنٹے جنگ بندی کی پیشکش بھی مستردکردی ہے جبکہ ٹرمپ نے قانون سازوں سے1.5ٹریلین ڈالر (4200 ارب )کے بھاری دفاعی بجٹ کی منظوری مانگی ہے‘ ایران کی اجازت کے بعد عمان ‘جاپان اور فرانس کےتین بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کرلی ہےجبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان نے ایک فون کال کے دوران مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا‘اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے قومی توانائی کی حفاظت کو بڑھانے کے لیے سعودی عرب کا اچانک دورہ شروع کیا ہے‘یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد کر سکتا ہے۔پوپ لیو نے اسرائیلی صدر ہرتزوگ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کے تمام راستے دوبارہ کھولیں‘سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ اب سنیچر کے روز ہوگی۔ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگلاہدف پل ہوں گے ‘پھر بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس‘ تھوڑا اور وقت مل جائے تو آبنائے ہرمز کو آسانی سے کھول سکتے ہیں ‘طیارے گرنےسے ایران کے ساتھ مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سویلین مقامات بشمول زیر تعمیر پلوں پر حملے ہمیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔تفصیلات کے مطابق ایرانی فوج نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب جنوبی پانیوں میں ایک دوسرا امریکی جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔ سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ ملک کے جنوب مغرب میں ایک F-15E لڑاکا طیارے کی تباہی کے بعد پیش آیا۔پاسداران انقلاب نے وسطی ایران میں امریکا کا ایف تھرٹی فائیو طیارہ ومار گرانے کادعوی کیا ہے جبکہ پائلٹ کو ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے گرفتار کیے جانے کی متضاد اطلاعات ہیں ‘ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق تہران نے امریکا کے اے 10 لڑاکا طیارے کو جنوبی ایران میں خلیجی فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم پائلٹ بحفاظت نکلنےمیں کامیاب رہا۔امریکا کے ایف 15 طیارے کو بھی نشانہ بنایا گیا جسے ریسکیو کرنے کے لیے آئے دو ہیلی کاپٹروں پربھی حملے کیے گئے۔ فائرنگ سے ان ہیلی کاپٹروں کا عملہ زخمی ہواتاہم یہ لینڈ کرگئے۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران میں مار گرائے گئے امریکی طیارے سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔قبل ازیں ایران نےگرائے گئے طیارے کے پائلٹ کی تلاش کے لیے فوج تعینات کی تھی جبکہ علاقائی گورنر نے پائلٹ کو پکڑنے یا ہلاک کرنے والے کسی بھی شخص کے لیے انعام اور تعریفی سند کا اعلان کیاتھا۔علاوہ ازیں تہران نے 48گھنٹے کی جنگ بندی کے لیے امریکا کی ایک تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔یہ تجویزایک دوسرے ملک کے ذریعے پیش کی گئی تھی جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے قومی توانائی کی حفاظت کو بڑھانے کے لیے سعودی عرب کا اچانک دورہ شروع کیا ہے۔ وہ قطر اور متحدہ عرب امارات کے حکام سے بھی ملاقات کریں گی۔مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی ریفائنریوں میں سے ایک کویت کی منا الاحمدی ریفائنری کو تیسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے‘ کویت کی وزارت نے بتایا کہ ایرانی حملے میں توانائی اور کھارے پانی کو میٹھا کرنے کی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے حبشان گیس کمپلیکس کوشدید نقصان پہنچا ہے اوراس میں آگ بھڑک اٹھی ہے جس کے بعد آپریشن معطل کرنا پڑا ہے ۔ واقعہ میں ایک مصری شہری ہلاک اور چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ابوظبی کے علاقے عجبان میں میزائل حملے کو ناکام بنائے جانے کے بعد ملبہ گرنے سے 12 افراد زخمی ہو گئے۔پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔