کراچی (اعجاز احمد /اسٹاف رپورٹر ) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے ساتھ ہی ایک جانب وفاقی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب حکومت نے پورے صوبے میں سرکاری شعبے کی ٹرانسپورٹ میں عوام کے لیے مفت سفر کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف سندھ حکومت نے نجی شعبے کے ٹرانسپورٹرز کو زرتلافی ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ زرتلافی صرف ان ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو ماہانہ بنیاد پر دیا جائے گا، جو پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے نہیں بڑھائیں گے، اس ضمن میں بسوں، منی بسوں اور کوچز کوماہانہ 2لاکھ 40ہزار روپے تک فی کس زرتلافی دیا جائے گا، جب کہ ویگنز اور پک اپس کو 50ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ فراہم کئے جائیں گے، چھوٹے ٹرکس کو70ہزار اور بڑے ٹرکس کو 80ہزار روپے ماہانہ دیئے جائیں گے،اسی طرح رواں ماہ ہر رجسٹرڈموٹرسائیکل مالک کو2 ہزار روپے نقد فراہم کئے جائینگے، مگر حکومتی اعلان کے برعکس ٹرانسپورٹرز نے قلیل تعداد میں کراچی میں چل رہی بسوں، منی بسوں اور کوچز وغیرہ کے کرایوں میں جمعہ سے ہی 40سے 60فیصد تک اضافہ کردیا ، جس کا براہ راست اثر مہنگائی کی چکی میں پسے غریب عوام پر پڑ رہا ہے اور اس صورت حال میں وہ خاصے پریشان نظر آرہے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں حالیہ اضافے کے باعث کئی مقامات پر شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کے مابین تکرار اور جھگڑے بھی نظر آئے۔ شہریوں نے سندھ حکومت پر واضح کیا کہ جب ٹرانسپورٹرز حکومت کی رٹ ہی تسلیم نہیں کررہے اور انہوں نے کسی بھی سرکاری اعلان سے قبل ہی ازخود کرایوں میں اضافہ کردیا ہے تو پھر صوبائی حکومت کی جانب سے انہیں زر تلافی ادا کرنے کا کوئی جواز نہیں! شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن سے مطالبہ کیا کہ سرکاری شعبے میں پورے صوبے اور خصوصاً صوبائی دارالحکومت کراچی میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں نئی، جدید اور آرام دہ بسیں چلائی جائیں اور کراچی سرکلر ریلوے(کے سی آر) بحال کی جائے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولتیں میسر آسکیں۔