کراچی (سہیل محمودمہر) ایران سے متعلق انسانی وسائل کی عالمی درجہ بندیوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے انقلاب کے بعد تعلیم و تحقیق کے شعبے میں حیرت انگیز ترقی کی ہے1976کے انقلاب سے قبل اور 2026کے بعد ملک میں تعلیم، تحقیق اور سائنسی شعبوں کے موازنے سےپتہ چلتا ہے کہ نیوکلیئر انرجی میں درجہ بندی 75سے بہتر ہو کر 12، ایرو اسپیس انجینئرنگ میں 45سے 11، فزکس و فلکیات میں 56 سے 13، فارماکولوجی و فارماسیوٹکس میں 49 سے 11، نینو ٹیکنالوجی میں 42سے 16 تک بہتری آئی۔ اسٹم سیل ٹیکنالوجی میں ایران امریکا کے بعد دوسرنمبر پر ہے۔ایران آبپاشی (اریگیشن انجنیئرنگ ) کے حوالے سے بھی دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔اسی دوران خواندگی کی شرح انقلاب سے قبل 47.2 فیصد تھی جو 2016 تک بڑھ کر 93.2 فیصد ہو گئی، جبکہ ہائی اسکول کے طلبہ کا تناسب 23 فیصد سے بڑھ کر 85 فیصد تک جا پہنچا۔اعلیٰ تعلیم میں صنفی فرق بھی نمایاں طور پر کم ہوا، جہاں انقلاب سے پہلے خواتین کی شرکت صرف 2 فیصد تھی، جو بعد اسلامی انقلاب کے بعد بڑھ کر 33.39فیصد ہو گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد 9,458سے بڑھ کر 68,000 تک پہنچ گئی۔