اسلام آباد(راحت منیر/اپنے رپورٹر سے) پاکستان تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر سالانہ615ارب روپے کے اخراجا ت کررہا ہے۔ پاکستان میں ہر ایک منٹ کے بعدایک شخص کوہارٹ اٹیک ہو رہا ہے۔جبکہ عالمی کنونشن کا حصہ ہونے کے باوجود کابینہ کمیٹی سے تمباکو کی ڈبی پر پیکٹوریل ہیلتھ وارننگ کو بڑھانے اور تبدیل کرتے رہنےکی سمری مستردکردی گئی ہے۔کابینہ کمیٹی برائے قانون کےسیکرٹری کی خاموشی پرپاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن نےوزیر اعظم پاکستان کو خط لکھ کر معاملے کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ)کے مطابق پاکستان کے عالمی کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی)پر دستخط کنندہ ہونے کے باوجود تمباکو کی ڈبی پر پیکٹوریل ہیلتھ وارننگ کو بڑھانے اور تبدیل کرتے رہنےکی سمری مختلف فورمز سے منظوری کے بعد کابینہ کمیٹی برائے قانون کو بھجوائی گئی تھی۔ جس کے بارے منٹس میں انکشاف ہوا ہےکہ مسترد کردی گئی ہے۔