اسلام آباد(مہتاب حیدر)مالی سال 2026 میں 3.5 فیصد شرحِ نمو کے تخمینے کے باوجود، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں زیادہ ترقی حاصل کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ نرم معاشی (میکرو اکنامک) پالیسیوں کا نفاذ ادائیگیوں کے توازن پر دوبارہ دباؤ ڈال سکتا ہے اور بڑی مشکل سے حاصل کی گئی معاشی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ADB نے جمعہ کو جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا کہ بیرونی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں طویل تنازع، عالمی اجناس خصوصاً توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو بڑھا سکتی ہیں اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملک کے اندر مہنگائی اور بیرونی کھاتوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جو معاشی ترقی کے امکانات کو کمزور کرے گا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ معاشی منظرنامے کو اب بھی منفی خطرات درپیش ہیں۔ پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں معیشت کو استحکام حاصل ہوا ہے اور توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور سرکاری اداروں میں بنیادی اصلاحات کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، ان مسائل کو مکمل طور پر حل کیے بغیر تیز رفتار ترقی کی توقع اصلاحات میں تھکن (reform fatigue) اور پالیسی میں کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔