• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی اور ایرانی وفود کا استقبال، پاکستان کا دہرا سفارتی پیغام

لاہور (خالد محمود خالد) پاکستان کا دوہرا سفارتی پیغام: امریکی اور ایرانی وفود کے استقبال نے نئی بحث چھیڑ دی۔ ایران اور امریکی وفود کی پاکستان آمد پر فیلڈ مارشل کے مختلف اندازِ استقبال کو علامتی اشارہ قرار دیا گیا۔ پاکستان بیک وقت ثالث اور سکیورٹی شراکت دار، ایک ہی ہوٹل میں امریکی و ایرانی وفود کا قیام غیر معمولی پیشرفت قرار، بھارت کے سینیئر صحافی رویِش کمار نے ایران اور امریکی وفود کی پاکستان آمد کے موقع پر پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مختلف اندازِ استقبال کو ایک علامتی سفارتی اشارہ قرار دیا ہے۔ اپنے وی لاگ میں انہوں نے کہا کہ ایک ہی دن میں دو مختلف انداز اپنانا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اور سلجھا ہوا پیغام ہو سکتا ہے۔ جب امریکی وفد جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، پاکستان پہنچا تو فیلڈ مارشل نے سوٹ پہن کر استقبال کیا، جو ایک روایتی اور سفارتی پروٹوکول کی عکاسی کرتا ہے۔دوسری جانب، ایرانی وفد کے استقبال کے موقع پر آرمی چیف فوجی وردی میں نظر آئے، جسے رویِش کمار نے عسکری نوعیت کے تعلقات یا اسٹریٹجک پیغام سے جوڑا۔انہوں نے کہا کہ یہ ڈبل رول دراصل پاکستان کی اس پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے جہاں وہ ایک طرف سفارتی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف خطے کی سکیورٹی اسٹرکچر میں بھی فعال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی گودی میڈیا نے اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے یر طرح کا منفی رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جب امریکہ سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے تو بھارتی میڈیا میں یہ خبریں چلنے لگیں کہ ایران بات چیت میں شامل نہیں ہو سکتا۔ یہ دعوی کیا گیا کہ ایران کی شرط ہے کہ وہ اس صورت میں پاکستان جائیں گے جب لبنان پر حملہ رک جائے۔ ایسی خبریں بھی چلیں کہ وینس کی ٹیم تو اسلام آباد پہنچ گئی اور ایران کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ جب تک ایرانی وفد اسلام آباد نہیں پہنچے گا وینس نہیں جائیں گے مگر جیو ٹی وی کا کہنا ہے کہ صبح 11 بجے جے ڈی وینس کا طیارہ اسلام آباد میں لینڈ کر گیا اور ایرانی وفد بھی پاکستان پہنچ گیا۔ رویش کمار نے مزید کہا کہ ایرانی وفد تمام خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان پہنچا۔ اسرائیل نے متعدد مرتبہ بات چیت میں شامل لوگوں کو مار دیا۔ علی لاریجانی کو مارا جو بات چیت کے ذریعہ دار ہو سکتے تھے۔

اہم خبریں سے مزید