کراچی (نیوز ڈیسک) لندن میں فلسطین کے حق میں احتجاج، 500 سے زائد افراد گرفتار، عدالتی فیصلے کے باوجود گرفتاریاں، 18سے 87سال کے افراد شامل، پرامن احتجاج کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ مظاہرین و منتظمین کی برطانوی حکومت پر شدید تنقید، غزہ میں اسرائیلی ظالمانہ کارروائیوں میں معاونت کا الزام عائد کیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق لندن کے علاقے ٹریفالگر اسکوائر میں فلسطین کے حق میں ہونے والے ایک بڑے احتجاج کے دوران پولیس نے 500سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا، جہاں مظاہرین "فلسطین ایکشن" نامی گروپ کی حمایت میں دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ پولیس کے مطابق مجموعی طور پر 523افراد کو حراست میں لیا گیا جن کی عمریں 18سے 87 سال کے درمیان تھیں۔ یہ گروپ جسے گزشتہ سال دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا، بعد میں عدالت نے اس پابندی کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا، تاہم حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے اور پولیس نے دوبارہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ مظاہرین اور منتظمین نے برطانوی حکومت پر غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں معاونت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ پرامن احتجاج کو دبانے کی کوشش ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان گرفتاریوں کو شہری آزادیوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ گزشتہ پابندی کے بعد سے اب تک تقریباً تین ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور متعدد افراد کے خلاف مقدمات بھی درج ہیں، جبکہ عدالت نے ان مقدمات کی سماعت عارضی طور پر روک کر مزید جائزے کے لیے تاریخ مقرر کر دی ہے۔