کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا ایران کشیدگی اب سمندری محاذ تک پہنچ گئی، نیامعاشی بحران،ہرمز میں غیر معمولی تعطل، امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ، تہران کااسٹریٹجک گرفت کے ذریعے دباؤ ،صورتحال مکمل جنگ نہ مکمل امن، ایسا تعطل ہے جس میں فریق ایک دوسرے کو معاشی کمزور کر رہے ہیں۔نیویارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک غیر معمولی تعطل کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے جبکہ ایران اس اہم آبی راستے پر اپنی اسٹریٹجک گرفت کے ذریعے دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں عالمی تجارتی بحری راستہ جزوی طور پر متاثر ہوا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ مکمل جنگ ہے اور نہ ہی مکمل امن بلکہ ایک ایسا تعطل ہے جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، فوجی ماہرین کے مطابق بحری ناکہ بندی فوری نتیجہ نہیں دیتی بلکہ اس کے اثرات ظاہر ہونے میں مہینوں یا سال لگ سکتے ہیں، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی بحری آمدورفت کے لیے کھولا جا سکتا ہے جس سے اس کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہو جائے گا۔