پیرس( تجزیہ رضا چوہدری / نمائندہ جنگ) عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ کئی دہائیوں سے پیچیدہ معاملات چوبیس گھنٹوں میں کبھی حل نہیں ہوتے، عالمی دباؤ دونوں ممالک کو معاہدے پر مجبور کر دے گا ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں تمام اہم نکات پر پیش رفت اور جزوی اتفاق کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ کئی دہائیوں بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے براہِ راست مذاکرات ہوئے، جسے سفارتی حلقوں میں بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی مبصرین کے مطابق حتمی معاہدے کے امکانات موجود ہیں اور یہ معاہدہ رواں یا آئندہ ماہ متوقع ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ دہائیوں پر محیط پیچیدہ مسائل کو مختصر وقت میں حل کرنا ممکن نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر نمایاں ہوں گے۔پاکستان پر ممکنہ اثراتاگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں توپاکستان پر سفارتی سطح پر بڑا فائدہ حاصل ہوگا اور اس کا عالمی امیج بطور ثالث بہتر ہوگا۔معاشی طور پر خطے میں امن سے تجارت میں اضافہ ہوگا، خصوصاً ایران کے ساتھ۔اس کے علاوہ سرحدی کشیدگی میں کمی سے سیکیورٹی صورتحال بھی بہتر ہونے کا امکان ہے۔تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوں گے پابندیوں میں نرمی کی صورت میں ایران عالمی منڈی میں تیل کی برآمدات بڑھا سکتا ہے، جس سے سپلائی میں اضافہ ہوگا۔نتیجتاً عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور پٹرول و ڈیزل سستا ہونے کا امکان ہے۔خصوصاً آبنائے ہرمز محفوظ ہونے سے عالمی تجارت کو بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔معاہدے کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوگی اور جنگ کے خطرات میں کمی آئے گی۔عالمی معیشت کو استحکام ملے گا کیونکہ توانائی کی سپلائی بہتر ہوگی۔امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری سے یمن اور عراق جیسے تنازعات میں بھی کمی آ سکتی ہے۔تاہم اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ ایران پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے اور اپنے جوہری پروگرام پر مکمل کنٹرول چھوڑنے کو تیار نہیں، جبکہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتا ہے۔یہی بنیادی اختلافات معاہدے کو مشکل بناتے ہیں۔ماہرین کے مطابق صورتحال تین ممکنہ رخ اختیار کر سکتی ہےجزوی معاہدہ (زیادہ امکان): جنگ بندی میں توسیع اور کچھ پابندیوں میں نرمی مکمل معاہدہ (کم امکان): جب دونوں فریق بڑی رعایت دیں ناکامی (خطرہ موجود): مذاکرات کی ناکامی اور کشیدگی میں دوبارہ ماہرین کے مطابق اس وقت مذاکرات جاری ہیں، اس میں وقفہ ہوا تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اور مفادات کا ٹکراؤ برقرار ہے۔اسی لیے ماہرین کا متفقہ خیال ہے کہ معاہدہ ممکن ضرور ہے، لیکن نہ تو آسان ہے اور نہ ہی فوری طور پر متوقع۔عالمی دباؤ دونوں ممالک کو معاہدے پر مجبور کر دے گا