اسلام آباد (نیوز رپورٹر، رانا غلام قادر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران امریکا تنازع طے کرانے کیلئے کوششیں جاری ہیں، ہماری کاوشوں سے جنگ بندی اب بھی قائم ہے، ایران اور امریکاکوکئی دہائیوں بعد آمنے سامنے بٹھانے کا سہرا پاکستان کو جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایران اور امریکا کے اعلی سطحی وفود ہماری دعوت پر پاکستان میں آئے، اس کیلئے عزیز بھائی ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہماری دعوت پر اپنے وفود پاکستان بھجوائے اور مذاکرات سے پہلے دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین کی قرارداد منظور کی گئیں، علاوہ ازیں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے چینی ہم منصب وانگ ای میں ٹیلیفونک رابطہ اور اسلام آباد میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ سے ملاقات کرکے حالیہ پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا، چینی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ امریکا ایران جنگ بندی انکی اولین ترجیح ہے، علاوہ ازیںوزیرِ اعظم شہباز شریف سے جاپان اور کینیڈا کی کے وزرائے اعظم نے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے ایران امریکا جنگ بندی اور مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا، امن قائم کرنے کے عمل کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، دونوں رہنماؤں نے حال ہی میں اسلام آباد مذاکرات کے دوران ہونے والے براہِ راست امریکا ایران مذاکرات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،دریں اثناء وزیراعظم شہبازشریف آئندہ 48 گھنٹوں میں سعودی عرب اور ترکیے کا دورہ کریں گے ، وزیر اعظم کی سعودی اور ترک حکام سے اہم معاملات پر مشاورت متوقع، اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ساتھ ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات سے پاکستان کو جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کا موقع ملا، اس کیلئے پاکستان کی قیادت نے دن رات محنت کی، پاکستان کی پرخلوص کاوشوں کی وجہ سے جنگ بندی آج بھی قائم ہے اور جو معاملات بھی اٹکے ہوئے ہیں ان کو حل کرانے کیلئے پوری کوششیں جاری ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات تاریخی اقدام ہیں، پاکستان کو ثالثی اور میزبانی کا موقع ملا،ایسے حالات میں جب پوری دنیا کی معیشت ہچکولے کھا رہی ہے۔