• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد مذاکرات، امریکہ اور ایران نے بات چیت کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا

واشنگٹن (جنگ نیوز) اسلام آباد مذاکرات کے بعد  امریکہ اور ایران نے بات چیت کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا،کئی دہائیوں میں پہلے براہ راست پاک-امریکہ مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم،اسلام آباد میں رات بھر جاری رہنے والے کشیدہ مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی،فریقین کے درمیان ایٹمی پروگرام، آبنائے ہرمز اور اثاثوں پر اختلافات برقرار،ملاقات کے اچانک خاتمے کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق، اسلام آباد میں ایک بے خواب اور پرتناؤ رات کے بعد، ایرانی اور امریکی حکام نے کئی دہائیوں میں اپنے اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات کسی بڑے بریک تھرو (کامیابی) کے بغیر ختم کر دیے ہیں۔ تاہم، مذاکرات سے واقف 11 ذرائع نے بتایا ہے کہ بات چیت کا راستہ ابھی بھی کھلا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کو حل کرنے کے لیے ہفتے کے آخر میں ہونے والی یہ ملاقات، گزشتہ منگل کو جنگ بندی کے اعلان کے چار دن بعد ہوئی تھی۔۔ذرائع کے مطابق، مرکزی کمرے میں فون لے جانے کی اجازت نہیں تھی، جس کی وجہ سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت دیگر مندوبین کو وقفوں کے دوران اپنے ملک پیغامات بھیجنے کے لیے باہر آنا پڑتا تھا" ایک اور ذریعے نے بتایا کہ فریقین معاہدے کے "80 فیصد" قریب پہنچ چکے تھے، لیکن پھر کچھ ایسے فیصلے سامنے آئے جو موقع پر حل نہیں کیے جا سکتے تھے۔دو سینئر ایرانی ذرائع نے ماحول کو "بھاری اور غیر دوستانہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کی، لیکن کسی بھی فریق نے لچک نہیں دکھائی۔ تاہم، اتوار کی صبح تک ماحول میں کچھ بہتری آئی اور مذاکرات میں ایک دن کی توسیع کی تجویز بھی سامنے آئی۔

اہم خبریں سے مزید