• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران سے مذاکرات 2 دن کے اندر پاکستان میں، ہم وہاں جاسکتے ہیں، فیلڈ مارشل شاندار کام کررہے ہیں، ٹرمپ

تہران /واشنگٹن(اے ایف پی /نیوز ڈیسک )چینی صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے چار نکاتی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ بیجنگ خطے میں اپنا تعمیری کردارجاری رکھے گاجبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کاکہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے دو دنوں میں ہو سکتے ہیں اور ہم وہاں (پاکستان) جا سکتے ہیں‘ پاکستان کے آرمی چیف وچیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے حوالے سے بہت شاندارکام کر رہے ہیں ‘ہمیں کسی ایسے ملک میں کیوں جانا چاہیے جس کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو؟امریکا کے نائب صدرجے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں خاصی پیش رفت ہوئی ہےتاہم تہران کولچک دکھانا ہوگی اور ان اہم نکات کو تسلیم کرنا ہوگا جن کا امریکا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسرے مرحلے کا فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے‘ گیند اب تہران کے کورٹ میں ہے‘ادھرایرانی حکام نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘ مذاکرات کا دوسرا دور ہو تواسلام آباد ہماری پہلی ترجیح ہے جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران امن مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری ہی اس کی ترجیح ہے‘ یہ بات انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانویل میخواںسے گفتگو کے دوران کہی‘پزشکیان نےکہاکہ دھمکیاں‘ دباؤ اور فوجی کارروائی غیر مفید ہیں اور اس سے امریکا کے خود پیدا کردہ مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے‘ادھرواشنگٹن میں اسرائیل‘ لبنان اور امریکا کے مابین مذاکرات کے بعد امریکا میں اسرائیل کے سفیر یخئیل لیٹر نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیاکہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ لبنان کو اس طاقت کے چنگل سے آزاد کرایا جائے جس پر ایران حاوی ہے اور جسے حزب اللہ کہا جاتا ہے۔ چین نے امریکی ناکہ بندی کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گؤ جیاکون نے خبردار کیا کہ یہ ناکہ بندی کشیدگی کو مزید بڑھائے گی اور جنگ بندی کے معاہدے کو نقصان پہنچائے گی۔ ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق روس نے ایران سے کہا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا اور ایسے حل تلاش کرنا ضروری ہے جن سے تنازع کی جڑ ہی ختم کی جا سکے‘سرگئی لاوروف نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی صورت میں دوبارہ تصادم نہیں ہونا چاہیے۔روس بحران کے خاتمے میں مدد کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔علاوہ ازیں امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے پہلے 24 گھنٹوں میں کوئی جہاز ایرانی بندرگاہوں سے نہیں گزرا‘اس ناکہ بندی میں10ہزار سے زائد فوجی اہلکار، درجنوں جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل ہیں۔ چھ تجارتی جہازوں نے امریکی فورسز کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنا راستہ تبدیل کیا اور واپس ایرانی بندرگاہوں کی طرف لوٹ گئے‘دوسری جانب ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ ناکہ بندی کے باوجود ایران سے منسلک چار جہاز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں‘علاوہ ازیں ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ محتاط اندازے کے مطابق اب تک ہونے والا نقصان تقریباً 270 ارب ڈالر بنتا ہے تاہم اس رقم میں اضافہ بھی ہو سکتا ہےجبکہ ایران نے سعودی عرب‘ امارات‘ قطر‘ بحرین اور کویت سے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام خط میں جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے‘ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اس خط میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے انتونیو گوتریس کو لکھاکہ یہ پانچ ممالک ایران سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ اس طرز عمل کے نتیجے میں ان ممالک کی بین الاقوامی ذمہ داری ہے کہ ایران کو پہنچنے والے تمام نقصان کا مکمل ازالہ کریں۔تفصیلات کےمطابق ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کوٹیلی فونک انٹرویو میں بتایاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن مذاکرات کا اگلا دور اگلے دو دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت میں ہو سکتا ہے۔

kk


اہم خبریں سے مزید