کراچی (جنگ نیوز) امریکی جریدے ٹائمز نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں بتایا ہے کہ ایران امریکا مذاکرات کو بچانے کےلیے پاکستانی حکام انتہائی سرگرم رہے۔ بالخصوص جنرل عاصم منیر کو ثالثی میں مرکزی حیثیت حاصل تھی، امریکاایران سے یورینیم کی افزودگی کا مکمل خاتمہ، افزودگی تنصیبا ت ختم کرنا، اوراس کے ذخائر کی ایران سے منتقلی چاہتا تھا، جبکہ ایران کا موقف تھا کہ یورینیم کی افزودگی عالمی قوانین کے تحت خودمختارانہ ریاستی حق ہے، جو پرامن سویلین استعمال کے لیے ضروری ہے،ایرانیوں کا یہ کہنا بھی تھا کہ امریکا جو کچھ جنگ میں حاصل نہیں کرسکا وہ سب کچھ میزپر حاصل کرنا چاہتا تھا اور ان کے مطالبات بڑھتے چلے جارہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے ایک پرتعیش ہوٹل کا پرسکون ماحول اس تاریخی موقع پر امریکہ اور ایران کو کسی بڑے امن معاہدے تک پہنچانے کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکا، تاہم اس ملاقات میں ہونے والی پیش رفت نے یہ امید ضرور پیدا کی ہے کہ سفارت کاری کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا۔یہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی سب سے اعلیٰ سطح کی ملاقات تھی، جس میں مذاکرات رات بھر جاری رہے۔مذاکرات کی جگہ ایک ایسا نیا اور نسبتاً غیر معروف دارالحکومت تھا تاہم پاکستان، جو ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے اور خود اس جنگ کا حصہ بھی نہیں تھا، اس پوزیشن میں تھا کہ دونوں حریف ممالک کو ایک میز پر لا سکے۔امریکا کی طرف سے ایک بڑا اور جامع معاہدہ پیش کیا گیا، جس میں ایران پر سے پابندیاں ہٹانے، اسے مکمل طور پر عالمی برادری میں شامل کرنے، اور حتیٰ کہ مستقبل میں شراکت داری کی پیشکش بھی شامل تھی۔ واشنگٹن یہ جانچنا چاہتا تھا کہ آیا ایران کی قیادت، جو چھ ہفتوں کی جنگ کی تباہی اور اپنے سپریم لیڈر کے قتل کے بعد کمزور ہوئی ہے، اب امریکی شرائط کے سامنے جھکنے پر آمادہ ہے یا نہیں، جیسا کہ ماہرین کا کہنا ہے۔تاہم ایران تہران اس وقت کسی ایسے معاہدے کے لیے تیار نہیں تھا جسے وہ مکمل “سرنڈر” یعنی ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھے۔پاکستانی حکام مذاکرات کو بچانے کے لیے انتہائی سرگرم رہے، اور ایرانی وفد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے امریکی وفد کے ساتھ روانگی کے بعد بھی کئی گھنٹے تک پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مشاورت کرتا رہا۔واشنگٹن کے لیے اصل رکاوٹ ایران کا جوہری پروگرام تھا۔ جبکہ ایران کی تشویش زیادہ بنیادی نوعیت کی تھی۔ ایران کے پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی وفد بالآخر ایرانی مذاکراتی ٹیم کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ایران کے مطابق اسے خدشہ ہے کہ اگر وہ کوئی رعایت دے تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، کیونکہ گزشتہ سال مذاکرات کے دوران دو مرتبہ ایران پر بمباری ہو چکی ہے۔ تہران چاہتا تھا کہ اس بار جنگ کے خاتمے کی مکمل اور قابلِ اعتماد ضمانت دی جائے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بعد ازاں کہا کہ دونوں فریقین “معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے”، لیکن انہیں “زیادہ سے زیادہ مطالبات، بدلتے ہوئے مطالباتی نکات اور رکاوٹوں” کا سامنا کرنا پڑا۔ایک امریکی اہلکار نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کی کئی “ریڈ لائنز” کو قبول نہیں کیا، جن میں یورینیم کی مکمل افزودگی کا خاتمہ، تمام اہم افزودگی مراکز کو ختم کرنا، اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ملک سے باہر منتقل کرنا شامل تھا۔