• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی امن سفارتی مہم فیصلہ کن مرحلے میں داخل

اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) مشرق وسطیٰ کی جنگ مستقل طور پر ختم کرانے اور ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی جارحیت کے سدباب کی غرض سے پاکستان کی امن سفارتی مہم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آخری مرحلہ ہفتہ رواں میں اتوار تک اسلام آباد میں مکمل ہوسکتا ہے۔فیلڈ مارشل سبھی فریقین کے لئے پسندیدہ ترین شخصیت ، دنیا بھر میں امن پسند عوام کے دلدار بن گئے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا برادر سہ ملکی دورہ آج (جمعرات) ان کے سعودی عرب کے بعد قطر کے دارالحکومت دوہا پہنچنے کے بعد نکتہ عروج کی طرف بڑھ جائے گا۔ جب کہ آج ہی وہ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ جائیں گے۔ اسی اثناء میں اہم ترین اقدام پاکستان کی مسلح افواج کےچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایرانی دارالحکومت تہران کا ہنگامی اور غیرمعمولی دورہ ہے جس نے حتمی معاہدے کے لئے ماحول سازگار بنا دیا ہے اور کم و بیش یکطرفہ طور پر تمام تفصیلات مرتب کر لی گئی ہیں۔ حد درجہ قابل اعتمادسفارتی ذرائع نے بدھ کی شام جنگ، دی نیوز کو بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مشرق وسطیٰ میں تصفیے کے لئے محوری حیثیت حاصل ہو گئی ہے جسے پاکستان کااعزاز قرار دیا جا رہا ہے، وہ تنازعے کے سبھی فریقین کے لئے پسندیدہ ترین شخصیت قرار پا گئے ہیں۔ انہوں نے معرکہ حق میں بے مثال کامیابی حاصل کی تھی اب انہیں معرکہ امن کا بھی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جو کل متوقع ہے، اسلام آباد پراسیس کی تکمیل کے لئے اپنی تائید فراہم کر دے گا۔ سفارتی ذرائع نے واضح کر دیا ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ بندی کی موجودہ میعاد میں ہی امن معاہدہ ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کے رفقاء کو اسلام آباد کے ایک نئے سفر کی تیاری کے لئے اشارہ دے دیا گیا ہے جب کہ بدھ کی شب تہران میں بھی اس سلسلے میں اعلیٰ سطح کی مشاورت کا آغاز ہو گیا ہے جسے یہ اطلاع دے دی گئی تھی کہ لبنان پر اسرائیلی حملے روک دینے کی شرط پوری کر دی گئی ہے۔

اہم خبریں سے مزید