• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ ہائیکورٹ کا واٹر کارپوریشن کو غیرقانونی واٹر ہائیڈرنٹس بند کرانے کا حکم، صاف پانی تک شہریوں کی رسائی بنیادی حق قرار

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے صاف پانی تک شہریوں کی رسائی کو بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو پانی کی سپلائی بڑھانے اور غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس بند کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت عالیہ نے ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کو پانی فراہمی یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ فوری اقدامات کرے اور کورنگی کراسنگ تا ڈی ایچ اے پائپ لائن میں لیکیجز ختم کرنے کی ہدایت کی ہے اور ہدایات میں کہا ہے کہ تین ماہ میں نظام مکمل کیا جائے۔جسٹس عدنان الکریم میمن نے مزید کہا ہے کہ جب تک نظام متاثر ہے اس وقت تک عارضی طور پر واٹر ٹینکر کے ذریعے پانی کی فراہم کی جائے اور ٹینکرز کے ذریعے پانی سپلائی کا شیڈول عوام کے لیے جاری کرنے کیا جائے۔فاضل جج نے اپنے حکم نامہ میں کہا ہے کہ پانی کے چارجز اور اخراجات کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو سہ ماہی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ اپنے اقدامات اٹھائے اور ڈی ایچ اے میں آر او پلانٹس عوام کے فائدے کیلئے استعمال کئے جائیں اور 4 ہفتوں میں گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کیا جائے عدالت عالیہ نے کہا ہے کہ جب تک نوٹیفکیشن جاری نہ ہو اس وقت تک رہائشیوں سے ٹیکس وصولی نہ کیا جائے۔ جسٹس عدنان نے مذکورہ درخواستیں نمٹاتے ہوئے حکام سے تین ماہ میں عملدرآمد رپورٹ طلب کی ہے۔
اہم خبریں سے مزید