• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیلوں میں قیدیوں کی ہاتھوں بنا ئی گئی اشیاء کی سووینئر شاپ کا افتتاح

پشاور (نیوزرپورٹر) خیبرپختونخوا کے جیلوں میں قید افراد کے ہاتھوں سے بنائی گئی اشیاء کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے اور ان افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے پشاور میوزیم میں اپنی نوعیت کے پہلے سووینئر شاپ کا افتتاح کیا گیا ۔تقریب کے مہمانِ خصوصی سیکرٹری ثقافت و آثار قدیمہ سعادت حسن سیکرٹری ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ تھے جبکہ اس موقع پر ریحان گل خٹک انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات خیبر پختونخوا اور ڈاکٹر عبدالصمد ڈائریکٹر جنرل آثارِ قدیمہ و عجائب گھر خیبر پختونخوا، فیصل امین گنڈاپور MNA بھی موجود تھے۔اس موقع پر بتایا گیا کہ یہ سووینئر شاپ نہ صرف ایک ثقافتی اقدام ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد اصلاح (Correction) کے تصور کو فروغ دینا بھی ہے، جہاں قیدیوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کر کے انہیں معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سووینئر شاپ میں قیدیوں کے ہاتھوں سے تیار کردہ اشیاء، پینٹنگز اور دیگر مصنوعات رکھی گئی ہیں، جن کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کا 30 فیصد حصہ قیدیوں کو بطور معاوضہ فراہم کیا جائے گا، جو ان کی حوصلہ افزائی اور بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔یہ منصوبہ دو اہم سرکاری محکموں، یعنی محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر اور محکمہ جیل خانہ جات کے درمیان ایک مثالی اشتراک کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد ثقافتی ورثے کے فروغ کے ساتھ ساتھ اصلاحی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔شرکاء کے مطابق پشاور میوزیم، جو گندھارا تہذیب کے اہم ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے، میں اس سووینئر شاپ کا قیام اس منصوبے کو ایک تاریخی اور ثقافتی اہمیت بھی فراہم کرتا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے نہ صرف گندھارا تہذیب کے تاریخی پس منظر کو اجاگر کیا جا رہا ہے بلکہ زائرین کو ایک منفرد اور بامعنی تجربہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
پشاور سے مزید