تہران/واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) ایران نے جمعہ کو اچانک آبنائے ہرمزکھولنے کا بڑااعلان کردیا جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرگئیںاوردنیا بھرکی معاشی منڈیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ‘آبی گزرگاہ سے جہازرانی کی دوبارہ بحالی اورممکنہ امن معاہدے پر امریکی صدر ٹرمپ پرجوش نظرآئے جبکہ تہران بھی اپنے مؤقف پر پرعزم ہےتاہم جوہری مواد کی امریکا منتقلی سے متعلق بڑاابہام تاحال برقرار ہے ‘جنگ کے ممکنہ خاتمے کی خبروں سے دنیابھرمیں تبدیلی اور ظاہری سکون نظرآیاہے مگر سچ اب بھی کوسوں دور نظر آتاہے ‘بظاہر سیاست معلق دکھائی دیتی ہے کیوں کہ تمام فریقین نے اپنی ذاتی سیاست نظرانداز کرکے وسیع عالمی مفادمیں فیصلے کئے ہیں ۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ آبی گزرگاہ تجارتی جہازوں کے لیے اس وقت تک مکمل طورپر کھلی رہے گی جب تک مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی برقرار ہے۔ایرانی اعلان کے بعد دنیا بھرمیں تیل کی قیمتیں 13فیصدتک گرگئیں جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے پر تہران کا شکریہ ادا کیا ہےاوراسے دنیا کیلئے شانداردن قرار دیتے ہوئے کہاکہ اب کوئی اختلافی نکات باقی نہیں رہے‘ امن معاہدہ تقریباًطے پاچکا ہے‘ تہران نے اپنا جوہری پروگرام غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے پر اتفاق کر لیا ہے اور اسے کوئی منجمد فنڈزواپس نہیں ملیں گے‘ واشنگٹن تہران کے ساتھ اس کا افزودہ یورینیم حاصل کرے گا اور اسے واپس امریکہ لائے گا ‘بس بہت ہوچکا ‘اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا اور امریکہ کی جانب سے اسے اس عمل سے روک دیا گیا ہے۔ ایران نے اتفاق کیا ہے کہ وہ دوبارہ کبھی آبنائے ہرمز بند نہیں کرے گا۔ اب اسے دنیا کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا‘تہران نے واشنگٹن کی مدد سے آبنائے ہرمز سے سمندری بارودی سرنگیں ہٹادی ہیں یا ہٹا رہا ہے‘نیٹومعاملے سے دوررہے ‘آبی گزرگاہ مکمل طور پر کھلی ہے اور مکمل آمدو رفت کے لیے تیار ہےتاہم ایران کی بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک معاہدے پر دستخط نہیں ہو جاتے ‘ یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں ‘ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ کہیں بھی منتقل نہیں کیا جائے گا۔افزودہ یورینیم کی امریکا منتقلی تہران کیلئے کبھی بھی متبادل آپشن نہیں رہی ‘آبنائے ہرمز کا کھلنا یا بند ہونا سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ زمین پرہوتا ہے۔ امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق ایران کی طرف سے سوائے ہرمز کھولنے کے اس معاہدے پر کوئی باضابطہ رد عمل سامنے نہیں آیا جبکہ تہران نے جوہری پروگرام معطل کرنے سے متعلق ٹرمپ کے دعووں کی تصدیق بھی نہیں کی ۔ ادھر ایک سینئرایرانی فوجی عہدیدارنے بتایا ہے کہ صرف کمرشل جہازوں کو مخصوص راستوں اور پاسداران انقلاب کی بحریہ کی اجازت سے گزرنے دیا جائے گا‘اگر امریکی بحری محاصرہ برقرار رہتا ہے تو تہران اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرے گا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا‘اہلکار کے مطابق آبنائے ہرمز سے فوجی جہازوں کا گزر بدستور ممنوع ہے‘منجمد فنڈز کی بحالی آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کا حصہ ہے۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیاپر اپنے بیان میں صدرٹرمپ کا کہناتھاکہ امریکا اپنے بی ٹو بمبار طیاروں کی جانب سے پیدا ہونے والی تمام جوہری گرد حاصل کرے گا اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کا مالی لین دین نہیں ہوگا۔ یہ معاہدہ لبنان سے کسی طور منسلک نہیں تاہم امریکا الگ سے لبنان کے ساتھ کام کرے گا ‘امید ہے حزب اللہ بہتر انداز میں پیش آئے گی۔ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے‘ ٹرمپ نے اسے دنیا کے لیے ایک عظیم اور شاندار دن قرار دیا‘ انہوں نے ثالثی کرنے والے ملک پاکستان اور خلیجی اتحادیوں کا شکریہ ادا کیااورنیٹو کو سخت لہجے میںدور رہنے کی ہدایت کی کیونکہ انہوں نے آبنائے ہرمز کی حفاظت میں مدد کے لیے مغربی اتحاد کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔جمعہ کوٹرمپ کا کہنا تھاکہ امریکا وہ تمام جوہری مواد حاصل کر لے گا جو ہمارے بی ٹوبمبار طیاروں نے تیار کیا ہے - کسی بھی صورت یا شکل میں پیسوں کا تبادلہ نہیں ہوگا۔ ٹرمپ کا مزیدکہناتھاکہ انہوں نے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کے لیے نیٹو کی پیشکش مسترد کر دی ہے اور انہیں دوٹوک الفاظ میں معاملے سے دور رہنے کا کہاہے ۔ٹرمپ نے کہاکہ اب جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال ختم ہو چکی ہے مجھے نیٹو کی طرف سے ایک کال موصول ہوئی جس میں پوچھا گیا کہ کیا ہمیں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے انہیں دور رہنے کو کہا، سوائے اس کے کہ وہ اپنے جہازوں میں تیل بھرنا چاہتے ہوں‘ ٹرمپ نے نیٹوکو ایک بار پھر کاغذی شیر قراردیتے ہوئے کہاکہ جب ضرورت تھی تب وہ بیکار تھے۔ علاوہ ازیں امریکی صدرنے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایاہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے میں اب کوئی اختلافی نکات باقی نہیں رہےاور معاہدہ بہت قریب ہے۔توقع ہے کہ مستقل امن معاہدے پر بات چیت اسی ہفتے کے آخر میں ہو جائے گی ‘امریکی وفد کی قیادت کون کرے گا ابھی فیصلہ نہیں ہوا ‘ممکن ہے میں خود بھی پاکستان کا دورہ کروں‘ٹیلی فونک گفتگو میں ٹرمپ کا کہناتھاکہ ہم بہت قریب ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کے لیے بہت اچھا ثابت ہونے والا ہے اور ہم ایک معاہدہ کرنے کے بہت قریب ہیں۔ آبنائے ہرمز کھل جائے گی بلکہ وہ پہلے ہی کھلی ہوئی ہے اور چیزیں بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہی ہیں‘امریکی صدر نےبرطانوی نشریاتی ادارے کو بتایاکہ امریکا ایران کے ساتھ مل کر اس کی افزودہ یورینیم حاصل کرے گا اور اسے واپس امریکہ لائے گا۔ہم ایران کے ساتھ مل کر بڑے آرام و سکون سے جائیں گے اور بھاری مشینری کے ساتھ کھدائی شروع کریں گے‘ ہم اسے واپس امریکہ لائیں گے ۔