کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے طلبی کے باوجود وائس چانسلر جامعہ اردو کی غیر حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آبزرویشن میں کہا یہ رویہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ، دو ہفتوں میں احکامات پر عمل نہ ہوا تو سزا سنا دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ معاملہ آیا کہ معزز عدالت کی جانب سے ڈاکٹر شاہین عباس (چیئرپرسن، شعبہ ریاضیاتی علوم و ایسوسی ایٹ پروفیسر) اور ڈاکٹر مہہ جبین (ڈین فیکلٹی آف فارمیسی و پروفیسر) کی بحالی کے واضح احکامات جاری کئے جا چکے ہیں تاہم جامعہ اردو انتظامیہ تاحال نہ ان کے انتظامی عہدے بحال کر رہی ہے اور نہ ہی تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی کی گئی ہے۔ مزید برآں درخواست گزاروں کے خلاف مبینہ طور پر انتقامی کارروائیوں اور ہراسانی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں جس پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ عدالت نے دوٹوک ہدایت جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ دو ہفتوں کے اندر عمل درآمد یقینی بنائی جائے جس میں درخواست گزاروں کے انتظامی عہدوں کی بحالی ، تمام واجبات اور تنخواہوں کی ادائیگی، اور عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد شامل ہے۔ فاضل عدالت نے خبردار کیا کہ مقررہ مدت میں عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں وائس چانسلر، رجسٹرار اور متعلقہ انتظامیہ کے خلاف توہین عدالت پر سخت سزا دی جائے گی۔ عدالت نے واضح پیغام دیا کہ آئندہ سماعت پر صرف زبانی یقین دہانیاں نہیں بلکہ عملی اقدامات اور مکمل عملدرآمد ہی قابل قبول ہوگا۔