کوئٹہ( پ ر) پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر عصمت اللّٰہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں فارماسسٹس کی بڑی تعداد طویل عرصے سے بے روزگاری کا شکار ہےجبکہ دوسری جانب صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں فارماسسٹس کی شدید کمی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے بڑے تدریسی اور اہم ہسپتالوں خصوصاً بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال، سول سنڈیمن ہسپتال اور فاطمہ جناح چیسٹ ہسپتال میں فارماسسٹس کی شدید کمی ہے، جس کے باعث ادویات کی فراہمی، مریضوں کی رہنمائی، کلینیکل فارمیسی سروسز، ادویات کے محفوظ استعمال اور ہسپتال فارمیسی نظام متاثر ہو رہا ہےاس کے علاوہ ضلعی، تحصیل اور بنیادی مراکز صحت میں بھی فارماسسٹس کی کمی سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ڈاکٹر عصمت اللّٰہ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے فارماسسٹس کے فور ٹئیر سروس اسٹرکچر کی منظوری ایک خوش آئند اقدام ہے، تاہم موجودہ فارماسسٹس کی اگلے گریڈوں میں ترقی کے بعد گریڈ 17 میں کم از کم 350 نئے فارماسسٹس کی کمی الگ سے درپیش ہوگی، جسے فوری طور پر پورا کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے موقع پر محکمہ صحت میں فارماسسٹس کیلیے نئی آسامیاں فوری طور پر پیدا کی جائیں۔