• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرکاری فنڈز کی غیر قانونی ’’پارکنگ‘‘ اور SECP افسران پر اربوں کی نوازشات کا انکشاف

اسلام آباد (مہتاب حیدر)سرکاری فنڈز کی غیر قانونی ’’پارکنگ‘‘ اور SECP افسران پر اربوں کی نوازشات کا انکشاف، ایس ای سی پی نے اپنے فسران کو ماضی کے اثرات (بیک ڈیٹڈ) سے 1.191 ارب روپے کی ادائیگیاں کیں ۔ تفصیلات کے مطابق سرکاری اداروں کی جانب سے کمرشل بینکوں میں 1000ارب روپے جمع رکھنے کے انکشافات سامنے آنے کے بعد، اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے اپنے اس وقت کے چیئرمین، کمشنرز، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، ڈائریکٹرز اور دیگر کئی ملازمین کو تنخواہ، مراعات، مراعات یافتہ فوائد اور دیگر فوائد جیسے کہ گریجویٹی، ٹرسٹ اور پنشن کی مد میں 1.191 ارب روپے کے واجبات ماضی کے اثر سے ادا کیے۔ یہ تمام فوائد (مراعات) گزشتہ 16 ماہ کے دوران، ایس ای سی پی بورڈ کی منظوری سے ماضی کے اثر سے حاصل کیے گئے۔ یکم جولائی 2023 سے 31 اکتوبر 2024 تک کے 16 ماہ کے دوران، ماضی کے اثر سے کی گئی ان ادائیگیوں کا مجموعی حجم 1.191 ارب روپے رہا۔ یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی سینیٹر انوشہ رحمان نے یہ حساس معاملہ اٹھایا کہ سرکاری اداروں نے 2000 ارب روپے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ یا ٹریژری سنگل اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے بجائے کمرشل بینکوں کے کھاتوں میں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ عمل پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی واضح خلاف ورزی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اُس وقت کے چیئرمین اور ایس ای سی پی کے تین ارکان نے 65.559 ملین روپے حاصل کیے، نو ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے 68.787 ملین روپے، سولہ ڈائریکٹرز نے 87.046 ملین روپے، تینتیس ڈائریکٹرز نے 135.123 ملین روپے، بتیس جوائنٹ ڈائریکٹرز نے 56.391 ملین روپے، اٹھاون اضافی جوائنٹ ڈائریکٹرز نے 68.541 ملین روپے، بیالیس ڈپٹی ڈائریکٹرز نے 25.142 ملین روپے، پچپن اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے 18.296 ملین روپے، تین مینجمنٹ ایگزیکٹوز نے 398,481 روپے، جبکہ ایک سو چالیس اسٹاف/نان مینجمنٹ ملازمین نے 53.839 ملین روپے حاصل کیے۔

اہم خبریں سے مزید