کوئٹہ(پ ر)ماہر صحت ڈاکٹر لبنیٰ شاہین نے کوئٹہ میں منعقدہ ایک اہم تقریب کے دوران موسمیاتی تبدیلی اور ذہنی صحت کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے جو انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کر رہا ہے جبکہ ذہنی صحت پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان کا کہنا تھا کہ بیرونی ماحولیاتی عوامل انسانی دماغ پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں جس کے باعث ذہنی دباؤ اینگزائٹی اور ڈپریشن جیسے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر لبنہ شاہین نے “گرین پلس” کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تحقیق کے مطابق اگر کوئی فرد روزانہ تقریباً بیس منٹ سبزہ زار یا قدرتی ماحول میں گزارے تو اس کے جسم میں موجود کورٹیسول کی سطح کم ہو جاتی ہے جو ذہنی سکون اور مثبت سوچ کے لیے انتہائی اہم ہے۔