• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کلری پولیس آرگنائزڈ کرائم کی سرپرستی کرنے لگی ،حکام خاموش

کراچی (نمائندہ خصوصی) ڈسٹرکٹ سٹی کلری پولیس نے ایک بار پھرمبینہ طور پر آرگنائز کرائم کی سرپرستی شروع کردی ۔ علاقے سے ملنے والی معلومات کے مطابق تھانہ کلری کی حدود نیا آباد، ہنگوراآباد ،آگرہ تاج کالونی اور دیگر علاقوں میں 100 سے زائد مقامات پر مبینہ طور پر پولیس کی سرپرستی میں جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ خبر کے سلسلے میں ایس ایچ او ماجد علی علوی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جہاں بھی جرائم کی اطلاع ملتی ہے پولیس وہاں کارروائی کرتی ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایس ایچ او کلری ماجد علی علوی کی تعیناتی کے بعد ماضی میں بند کئے جانے والی گٹکاماوا اور جوئے سٹے کے بند اڈوں کو ایک بار پھر اجازت دے دی ہے ، جبکہ تھانے میں اسپیشل پارٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے، مبینہ طور پر علاقے میں آرگنائز کرائم کرنے والوں سے ہفتہ وار 10ہزار روپے سے لے کر 2 لاکھ روپے تک وصول کررہاہے ۔ کلری کی حدود میں نعمان نامی شخص کنفکشنری کی دکان کی آڑ میں اسمگل شدہ چھالیہ فروخت کررہا ہے اور مبینہ طور پرایک لاکھ روپے رشوت دے رہا ہے ۔اسی طرح شہزاد عرف شاہ زیب نامی شخص کو دو لاکھ روپے ہفتہ وار کے عوض غوثیہ مسجد روڈ پر گٹکا ماوے کی فیکٹری چلانے کی اجازت دی گئی ہے ،ہنگورا آباد میں مزمل نامی شخص گٹکا ماوا بیچنے کے چالیس ہزار ہفتہ وار ادا کر رہا ہے ۔ نیا آباد میں سیف اللہ نیازی، وقاص کوڈو ،ابرار اور حسام کو آرگنائز کرائم کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ذرائع کے مطابق ابرار عرصہ دراز سے علاقے میں گٹکا ماوا کی فیکٹری چلارہاہے ۔ شاہ بھٹائی روڈ پر کھلے عام ایرانی ڈیزل بھی پولیس کی سرپرستی میں فروخت ہورہاہے ۔
ملک بھر سے سے مزید