کوئٹہ ( اسٹاف رپورٹر)انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات بلوچستان کیپٹن ( ر) عبدالسعید نوید نے کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں صوبے کی تمام جیلوں کے لیے 33 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں، جیلوں میں کسی قسم کی غیر قانونی سرگر می کی اجازت نہیں دی جائیگی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹرل جیل ژوب اور ڈسٹرکٹ جیل لورالائی کے دورے کے موقع پر افسران سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرڈی آئی جی ایسٹ لورالائی عبداللہ خان کاکڑ اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔سینٹرل جیل ژوب میں سپرنٹنڈنٹ چٹا خان نے جیل کے انتظامی و سیکیورٹی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ آئی جی نے جیل کے مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے صفائی، قیدیوں کی رہائش، خوراک، طبی سہولیات اور نظم و ضبط کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں ہدایت جاری کی کہ جیل کے اندر منشیات اور موبائل فون کے استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف فوری انکوائری اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے قیدیوں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے اور موقع پر ہی حل کے احکامات جاری کیے۔ بعد ازاں آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان نے ڈسٹرکٹ جیل لورالائی کا دورہ کیا، جہاں سپرنٹنڈنٹ سکندر خان کاکڑ نے استقبال کیا اور جیل کے انتظامی امور پر بریفنگ دی۔ آئی جی نے وہاں بھی جیل کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور وہی سخت ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی، خصوصاً منشیات اور موبائل فون کے استعمال کو فوری طور پر روکا جائے اور قیدیوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔