کراچی، تہران (نیوز ڈیسک، اے ایف پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جب چاہے رابطہ کرسکتا ہے،ایران میں ’جو بھی معاملات چلا رہا ہو‘ امریکا اس سے بات کرنےکیلئے تیار ہے،انہوں نے کہا کہ وہ جب چاہیں ہمیں فون کر سکتے ہیں،ایران کاحقیقی سربراہ کون ہے، کوئی نہیں جانتا، مجھے جس سے بھی بات کرنی پڑے، کروں گا،دوسری جانب ایرانی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ امریکا جنگ کے دلدل سے باعزت واپسی کی تلاش میں ہے ، ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اورقزاقی جاری رہی تو جواب دینگے، پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کنٹرول کرنا حتمی حکمت عملی ہے، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عوام سے اپیل کہ ہے بجلی کا ’استعمال محدود‘ کر دیں،صدر پزشکیان نے کہا کہ دشمن ہماری تنصیبات کو تباہ کر رہے ہیں اور ہمارا محاصرہ کر رکھا ہے تاکہ لوگ عدم اطمینان کا شکار ہو جائیں،دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد ایرانی حجاج سعودیہ پہنچ گئے،جرمنی آبنائے ہرمز کے ممکنہ مشن کیلئے مائن سوئپر روانہ کرے گا، امریکا نے ایرانی تیل کی خریداری پر چینی ریفائنری پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے حد سے بڑھتے ہوئے مطالبات تسلیم نہیں کرے گا ،ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ بندرگاہوں کی ناکہ بندی نہ رکی تو جواب دیں گے ، پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ امریکا کیساتھ تنازع کے دوران آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کی حتمی حکمت عملی ہے، ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ دشمن، جس کا مقصد ایران کی میزائل اور فوجی صلاحیتوں کو مفلوج کرنا تھا، ناکام ہو چکا ہے اور اب جنگ کے دلدل سے باعزت واپسی کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔شپنگ ڈیٹا کے مطابق 24 گھنٹوں میں صرف پانچ جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کیا ہے، دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے چند روز بعد، ہفتے کو تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع ہو گئیں۔ ایرانی حجاج کرام سعودی عرب پہنچ گئے ہیں،ایرانی شہری مسقط اور استنبول کے لئے بھی روانہ ہوئے اور آنے والے دنوں میں فضائی آپریشنز میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں موجود ایرانی سفارتی ذریعہ نے کہا ہے کہ اصولی طور پر، ایرانی فریق حد سے زیادہ مطالبات قبول نہیں کرے گا، ایرانی فوج کے کمانڈ سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں مسلح افواج نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھی تو جواب دیا جائے گا،سرکاری میڈیا کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکی فوج ’سمندر میں محاصرہ، غنڈہ گردی اور قزاقی‘ جاری رکھتی ہے تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے ’جواب کا سامنا‘ کرنا پڑے گا۔