• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تلخ بیانات و دھمکیوں کے باوجود مذاکرات کے امکان کی مدھم روشنی موجود

اسلام آباد (محمد صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار) دو طرفہ تلخ بیانات اور دھمکیوں کے باوجود ایران، امریکا مذاکرات کے امکان کی مدھم ر وشنی موجود ہے یہ تاثر پختہ ہوگیا ہے کہ مذاکرات کے پہلے دور کے تناظر میں پیدا شدہ تعطل برقرارہے فریقین ایک دوسرے کو رعایت دینے کے لئے آمادہ نہیں ہیں اس تمام تر کے باوجود پاکستان دیرپا امن کے لئے اپنی سفارتی مساعی کو جاری رکھے گا۔ حد درجہ قابل اعتماد سفارتی ذرائع نے ہفتے کی شب جنگ /دی نیوز کو بتایا ہے کہ پاکستان نے تہران کی ’’امانت‘‘ واشنگٹن کو سونپ دی ہے جو ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی سرکردگی میں آئے وفد نے اسلام آباد کے حو الے کی تھی۔ اس کا تعلق مذاکرات کے لئے نئے ایجنڈے سے تھے جسے زیر غور لانے کی یقین دہانی ہی مذاکراتی عمل کو بحال کرسکتی ہے اس میں ا ہم ترین دارالحکومتوں کی ضمانت کا نیا عنصر شامل کیاگیا ہے جو کسی بھی سمجھوتے کو تسلیم کرنے کی لازمی شرط ہوگا، امریکی صدر اسے ڈیل کا نام دیتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ماضی میں جو یقین دھانیاں کرائی تھیں تہران نے پہلی مرتبہ اپنی پوزیشن کو تبدیل اور سخت کرتے ہوئے انہیں مذاکراتی عمل سے خارج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں اپنی سیاسی ضرورتوں کے لئے ’’بڑھ چڑھ‘‘ کر بولنا ضرورت ہے اگر اسے ہفتے کے لئے خود پر زبان بندی لاگو کرلیں تو مستقل نہیں کم از کم دیرپا امن کی ضمانت کے لئے مذاکرات فوری شروع ہوسکتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید