تہران /دبئی (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) مشرق وسطیٰ پرایک بارپھر جنگ کے بادل‘ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 126ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں جو چارسال کی بلندترین سطح ہے تاہم بعد میں یہ نرخ 113ڈالر تک آگئے ۔ایک امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکی فوجی قیادت تہران کیخلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے منصوبے پر صدر ٹرمپ کو بریفنگ دے گی‘امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق سینٹرل کمانڈ نے ایران پر مختصر اور طاقتور فضائی حملوں کی ایک لہر شروع کرنے کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے جبکہ امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق ہرمز کودوبارہ کھلوانے کی خاطر ٹرمپ انتظامیہ دوست ممالک کے ساتھ ملکرنئے عالمی اتحاد کے قیام کے لیے کوشاں ہے‘اسرائیلی وزیردفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ہمیں ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کرنی پڑے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہاہے کہ جوہری معاہدہ ہونے تک ناکہ بندی جاری رہے گی‘ایرانی ٹیم کے فٹبال ورلڈکپ میچز امریکا میں کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں‘دوسری جانب ایران کے رہبراعلیٰ مجتبیٰ خامنہ نے جنگ کی امریکی دھمکی کو مستردکرتے ہوئے واضح کیاہے کہ تہران اور خلیجی پڑوسیوں کی تقدیر مشترک ہےتاہم فساد برپا کرنے والے غیر ملکیوں کی جگہ خلیج فارس کی تہہ کے سوا کچھ نہیں‘ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کی حفاظت کرے گا‘واشنگٹن کو جنگ میں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے‘ صدر مسعود پزشکیان نے کہاکہ سیز فائر کے باوجود امریکی ناکہ بندی فوجی کارروائی کا تسلسل ہے جو ناقابل برداشت ہے ‘ پاسدران انقلاب کے ایرواسپیس کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید ماجد موسوی نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے خطے میں آپ کے اڈوں کا انجام دیکھا۔ ہم آپ کے طیارہ بردار جہازوں کی قسمت بھی دیکھیں گے۔اگر واشنگٹن کا حملہ محدود بھی ہواتب بھی تہران خطے میں امریکی ٹھکانوں پر طویل اور دردناک حملوں سے جواب دے گا۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف نے واشنگٹن پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ تین دن گزر گئے ہیں اور ابھی تک کوئی بھی کنواں نہیں پھٹا‘اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے جبکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے )کے سربراہ فاتح بیرول کے مطابق دنیا تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیردفاع اسرائیل کاٹز نے ایک فوجی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک کو جلد ہی ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کرنی پڑ سکتی ہے تاکہ ایران پھر اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔صدرٹرمپ اور نیتن یاہو مل کر اس مہم کے مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں‘ہم اس کوشش کی حمایت کرتے ہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ ان مقاصد کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں جلد ہی دوبارہ کارروائی کرنی پڑے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آبنائے ہرمزپرتہران کا کنٹرول خطے میں امریکی موجودگی سے پاک مستقبل کو یقینی بنائے گا۔سوشل میڈیا پر ان کا کہنا تھا کہ آج آبنائے ہرمز کے انتظام کے ذریعے ایران اپنے اور پڑوسیوں کو امریکی موجودگی اور مداخلت سے پاک مستقبل کی بیش قیمت نعمت فراہم کرے گا۔