کراچی (رفیق مانگٹ) جیفری ایپسٹین سے متعلق حالیہ دستاویزات میں اس کے نجی جزیرے لِٹل سینٹ جیمز پر موجود ایک غیر معمولی عمارت کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جسے وہ خود مسجدکہتا تھا۔ یہ عمارت نیلے اور سفید دھاریوں پر مشتمل مکعب نما ڈھانچہ تھی، جس کے اوپر سنہری گنبد نصب تھا اور اسے مختلف اوقات میں میوزک روم، پویلین، چیپل اور پراسرار مذہبی مقام اور عبادت گاہ جیسے نام بھی دیے جاتے رہے، تاہم ایپسٹین اسے مستقل طور پر مذہبی نوعیت کی مسجد کے طور پر بیان کرتا تھا۔امریکی اخبار کے مطابق اس عمارت کی تیاری اور تزئین کے لیے انتہائی حساس اور مذہبی لحاظ سے اہم اشیاء حاصل کی گئیں، جن میں کعبہ سے منسوب کڑھائی شدہ غلاف (کسوہ)، قرآنی آیات سے مزین ریشمی کپڑے اور سنہری و چاندی دھاگوں سے بنی خصوصی ٹیکسٹائل شامل تھیں۔ مزید شواہد کے مطابق ازبکستان کی ایک مسجد سے حاصل کردہ آرائشی ٹائلیں اور شام کے تاریخی طرزِ تعمیر سے متاثر سنہری گنبد بھی اس عمارت کا حصہ تھے۔ ایک دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ کعبہ سے منسوب تین مختلف اشیاء اس جزیرے پر بھیجی گئیں، جن میں اندرونی استعمال کا غلاف، بیرونی کسوہ کا حصہ اور ایک خصوصی کپڑا شامل تھا جو مکہ کی مخصوص ورکشاپ میں تیار کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق ان اشیاء کی ترسیل ایک ایسے نیٹ ورک کے ذریعے ہوئی جس میں ایک خلیجی ملک کے شاہی اور سفارتی حلقے، مشیران اور کاروباری شخصیات شامل تھیں۔ ایپسٹین نے ان روابط کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف نوادرات تک رسائی حاصل کی بلکہ اپنے اثر و رسوخ کو بھی وسعت دی، اور بعض مواقع پر انہیں اپنے کاروباری اور سماجی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا۔دستاویزات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایپسٹین نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے تعلقات کو انتہائی منظم انداز میں فروغ دیا۔ اس نے مختلف سفارتی افراد کے ذریعے خلیجی خطے کے اہم حلقوں تک رسائی حاصل کی، اور بعض ملاقاتوں میں خود کو مالی مشیر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی کی۔ ان روابط کے نتیجے میں اسے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور خصوصی رسائی کے مواقع حاصل ہوئے۔عمارت کے ڈیزائن میں ایپسٹین کی ذاتی مداخلت بھی واضح ہے۔