اسلام آباد (خالد مصطفیٰ)126 ڈالر کا تیل جھٹکا: عالمی معیشت کی کمزوری بے نقاب، مہنگائی کا دباؤ دوبارہ بڑھ گیا، امریکہ میں مہنگائی 1 سے 2 فیصد پوائنٹس بڑھ سکتی ہے، ہیڈ لائن انفلیشن 5 فیصد کی سطح کے قریب پہنچنے کا امکان، پاکستان میں تیل کی بلند قیمتیں: مہنگائی 2 سے 4 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ، غذائی مہنگائی زیادہ متاثر ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق 126 ڈالر کے تیل کے جھٹکے نے عالمی معیشت کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے، کیونکہ مہنگائی کے دباؤ دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔ امریکہ میں مہنگائی 1 سے 2 فیصد پوائنٹس تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی مہنگائی دوبارہ تقریباً 5 فیصد کی سطح کے قریب پہنچنے کا امکان ہے۔جرمنی میں لاجسٹکس اور مال برداری کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث صارفین کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر جرمنی میں مہنگائی 1 سے 2 فیصد پوائنٹس تک بڑھ سکتی ہے، جبکہ صنعتی پیداوار کے منافع کے مارجنز پر دباؤ پڑ رہا ہے۔ بھارت میں مہنگائی پر اثرات کا اندازہ 0.5 سے 1.5 فیصد پوائنٹس کے درمیان لگایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ماہرین معیشت کے مطابق اگر تیل کی بلند قیمتیں برقرار رہتی ہیں تو مہنگائی میں 2 سے 4 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ غذائی مہنگائی خاص طور پر شدید اضافے کے لیے زیادہ حساس ہے۔ عالمی منڈیاں اس وقت گراوٹ کا شکار ہو گئیں جب برینٹ کروڈ انٹرا ڈے میں 126 ڈالر سے اوپر چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ایس اینڈ پی 500 تقریباً 1.3 فیصد گر گیا، جبکہ نسڈیک کمپوزٹ میں 1.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یورپ میں ڈی اے ایکس تقریباً 1.7 فیصد نیچے آیا، جبکہ سی اے سی 40 میں 1.5 فیصد فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 100 نسبتاً مستحکم رہا اور صرف 0.8 فیصد گرا۔ ایشیا میں نیکائی 225 (2.2) فیصد گر گیا۔ پاکستان میں کے ایس ای انڈیکس 100 میں تقریباً 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق 30 اپریل 2026 کو عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جارحانہ جغرافیائی و سیاسی بیانات نے خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے اور عالمی حصص میں بڑی گراوٹ کو جنم دیا۔ اس صدمے کی بنیادی وجہ دنیا کی سب سے اہم توانائی کی گزرگاہ میں سپلائی کی طویل مدتی معطلی کا خوف تھا۔ برینٹ کروڈ کی قیمت دن کے دوران بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی، اس کے بعد یہ کم ہو کر تقریباً 113 سے 116 ڈالر فی بیرل کے درمیان آگئی۔ یہ چار سال کی بلند ترین سطح تھی اور ایک ہی دن میں تقریباً 10 سے 13 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی بھی اسی رجحان کے ساتھ چلا، جو مختصر وقت کے لیے 120 ڈالر فی بیرل سے اوپر گیا اور پھر کم ہو کر 104 سے 108 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب آ گیا۔ ایشیا میں دبئی کروڈ ، جو مشرق وسطیٰ کی برآمدات کے لیے ایک اہم معیار ہے، 110 سے 125 ڈالر فی بیرل کے درمیان ٹریڈ کر رہا تھا۔ بعض اوقات اس نے روایتی طور پر برینٹ کروڈ کے مقابلے میں اپنا رعایتی فرق کم کر لیا اور مختصر وقت کے لیے برابری یا معمولی پریمیم پر بھی ٹریڈ کیا، جس کی وجہ علاقائی سپلائی میں براہِ راست دباؤ تھا۔ ریفائن شدہ ایندھن کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔