کراچی (رفیق مانگٹ) امریکا میں2026 کے مڈٹرم انتخابات سے قبل سیاسی اور آئینی سطح پر کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو انتخابی نظام کے مستقبل پر دور رس اثرات رکھنے والا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی سپریم کورٹ میں امریکی شہری فلپ کیلائس اور دیگر شہریوں نے ریاست لوزیانہ کیخلاف نسل پرستانہ بنیادوں پر نیا حلقہ قائم کرنے پرکیس دائر کیا تھا جو لوزیانا بخلاف کیلائس کے نام سے مشہور ہوا، عدالت نے کیس میں 6 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے لوزیانا میں پارلیمنٹ کے نئے انتخابی حلقے کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس حلقے میں ایک نیا اکثریتی سیاہ فام حلقہ شامل کیا گیا تھا، جسے نچلی عدالت نے پہلے ہی امتیازی قرار دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ حلقہ بندی غیر آئینی اور نسلی بنیادوں پراور اقلیتوں کی نمائندگی کو کم کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔عدالت کے مطابق انتخابی حلقہ بندیوں میں نسل پرستی کے استعمال کی حد آئینی طور پر محدود ہے اور ریاستیں اس بنیاد پر ایسے حلقے نہیں بنا سکتیں جو آئینی اصولوں سے متصادم ہو۔فیصلے کے بعد ووٹنگ رائٹس ایکٹ، حلقہ بندیوں اور ووٹر حقوق سے متعلق بحث غیر معمولی شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز ایک دوسرے پر انتخابی فائدے اور اثراندازی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔انتخابی حلقہ بندی میں ممکنہ تبدیلیاںہوسکتی ہیں۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے ریپبلکنز کو انتخابی فائدہ دے سکتے ہیں، ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے ریپبلکنز کو انتخابی فائدہ دے سکتے ہیں،ڈیموکریٹس،فیصلہ نسلی اثرات سے پاک انتخابی نظام کی طرف قدم ہے۔ اس فیصلے کو انتخابی قانون سازی میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد ریاستی سطح پر نئی حلقہ بندیوں کی تیاری شروع کردی گئی ہے، قانونی جنگوں میں اضافہ ہوگیا، ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی قوانین میں سختی پر سیاسی کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے،ریاستی خودمختاری اور وفاقی عدالتی کردار پر نئی آئینی بحث شروع ہوگئی جبکہ انتخابی اثراندازی اور ووٹر دباؤ کے الزامات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ڈیموکریٹک حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ بالواسطہ طور پر ریپبلکنز کو انتخابی فائدہ دے سکتا ہے، کیونکہ اس کے بعد ریاستوں کو حلقہ بندیوں میں زیادہ آزادی حاصل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے کانگریس میں نشستوں کا موجودہ توازن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کی صورت میں ایوانِ نمائندگان میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست 2026 کے مڈٹرم نتائج پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کئی ریاستوں میں انتخابی حلقہ بندی پر نظرثانی کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد مختلف ریاستوں میں مقدمات اور اپیلوں میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ انتخابی حلقہ سازی اب ایک شدید قانونی تنازع کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ریپبلکن مؤقف کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ انتخابی نظام کو نسل پرستانہ اثرات سے پاک بنانے کی طرف ایک آئینی قدم ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اسے انتخابی نمائندگی کے توازن کے لئے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔اسی دوران انتخابی قوانین اور ووٹر رجسٹریشن سے متعلق سختیوں پر بھی سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث انتخابی شفافیت اور ووٹر اعتماد ایک مرکزی بحث بن گئے ہیں۔ادھر مختلف رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی اداروں میں انتخابی سلامتی سے متعلق تبدیلیوں، نئی تقرریوں اور بعض تجربہ کار اہلکاروں کی برطرفی نے بھی خدشات کو بڑھایا ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی، ایف بی آئی اور محکمہ انصاف میں انتخابی نگرانی کے شعبوں میں ردوبدل کے بعد غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ورجینیا میں بھی انتخابی حلقہ بندیوں پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں عدالت نے ریفرنڈم کے ذریعے منظور شدہ حلقہ بندی کے نفاذ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ ریپبلکن نیشنل کمیٹی کی درخواست پر یہ فیصلہ سامنے آیا، جس کے بعد ریاستی حکومت نے اپیل کا اعلان کردیا ہے۔