کوئٹہ (پ ر)یوم مزدور کے موقع پر ریلوے گرینڈ الائنس کے زیراہتمام عظیم الشان ریلی اور جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے محنت کشوں کے مسائل کے حل کے لئے دوٹوک اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور مطالبہ کیا کہ لیبر قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے ، جلسہ عام میں ریلوے کی نجکاری کا فیصلہ واپس لینے ، کم از کم اجرت پچاس روپے ماہوار مقرر کرنے غیر رسمی مزدوروں کی ای او بی آئی میں رجسٹریشن اور یونین سازی پرعائد پابندی فوری طو رپر ہٹانے سے متعلق قرار دادیں بھی منظور کی گئیں ۔ریلوے گرینڈ الائنس کوئٹہ ڈویژن کے زیر اہتمام جمعہ کے روز یومِ مزدور کے موقع پر لوکو شیڈ کوئٹہ سے ریلوے اسٹیشن تک ریلی اور جلسہ منعقد کیا گیا۔ ریلی کی صدارت ریلوے گرینڈ الائنس کوئٹہ ڈویژن کے سیکرٹری جنرل ارشد یوسفزئی نے کی۔جلسے کے مہمانِ خاص جماعت اسلامی ضلعی کوئٹہ کے امیر نعیم رند تھے جلسے میں ریلوے پریم یونین (سی بی اے) کوئٹہ ڈویژن، ریلوے لیبر یونین کوئٹہ ڈویژن، ریلوے محنت کش یونین، ریلوے سمپارس یونین، لوکو رننگ اسٹاف ایسوسی ایشن کوئٹہ ڈویژن، نیشنل لیبر فیڈریشن بلوچستان، پی ٹی سی ایل اتحاد یونین اور ملی لیبر فیڈریشن کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ارشد یوسفزئی، نعیم رند، ظہور احمد رند، عطا محمد بلوچ، ربانی خان اچکزئی، شکر خان رئیسانی، قائم خان لہڑی، ظفر رئیسانی، آفتاب شاہ، محمد احسن و دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ ریلوے قومی شریان ہے اور اسے فروخت کرنا آنے والی نسلوں کو بے روزگاری کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم اجرت 50 ہزار روپے فوری نافذ کی جائے اور ریلوے کے تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے۔