• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو، ساڑھے 13 ایکڑ کا پلاٹ 4 ارب 88 کروڑ روپے میں خریدا گیا

اسلام آباد ( رانا غلام قادر) ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو، ساڑھے 13ایکڑ کا پلاٹ 4ارب 88 کروڑ روپے میں خریدا گیا ،سی ڈی اے نے 5 اسٹار ہوٹل اور سروس اپارٹمنٹ کیلئے پلاٹ الاٹ کیا، الاٹی نے ہوٹل تعمیر نہیں کیا، 240 اپارٹمنٹس تعمیر کر کے 7 ارب 17 کروڑ میں فروخت کر دیے ، سپریم کورٹ نے 2019 میں پلاٹ ریگولرائز کیا اور الاٹی کو 17 ارب 50 کروڑ روپے جمع کرانے کا حکم دیا, الاٹی نے صرف 2 ارب 90 کروڑ جمع کرائے، سی ڈی اے نے 2023 میں الاٹمنٹ منسوخ کر دی ،عمارت میں سابق وزیراعظم، متعدد سیاست دانوں، سابقہ ججوں، کھلاڑیوں اور صحافیوں کے اپارٹمنٹس تھے۔ تفصیلات کے مطابق شاہراہ دستور پر جناح کنونشن سنٹر سے ملحقہ پلاٹ پر تعمیر کئے گئے رہائشی ٹاور ون ۔ کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے اپارٹمنٹس کے مالکان میں معروف سیا سی و کاروباری شخصیات شامل ہیں ۔سی ڈی اے کی جانب سے پلاٹ کی لیز کی تنسیخ اور قبضہ لینے سے ان کی کروڑوں روپے کی سر مایہ کاری خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس بلڈنگ کا تاریخی پس منظر کیا ہے ؟؟؟۔ سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ یہ ساڑھے تیرہ ایکڑ کا پلاٹ ہے جسے فائیو سٹار ہوٹل اور سروس اپارٹمنٹس کیلئے الاٹ کیا گیا تھا۔یہ پلاٹ بی این پی گروپ ( بسم اللی ٹیکسٹائل ۔ نیاگرا ملز۔ پیراگان سٹی اور بیلحاسہ سٹی )نے نو مارچ 2005کو 75ہزار روپے فی مربع گز کی کامیاب بولی دے کر چار ارب 88کروڑ88لاکھ روپے میں خریدا۔یہ رقم پندرہ سال کی اقساط میں ادا ہونا تھی۔15فی صد رقم بنک گارنٹی کے ساتھ جمع کرائی گئی۔ الاٹی نے معاہدہ کے مطابق ہوٹل تعمیر نہیں کیا اور سروس اپارٹمنٹس کی بجائے رہائشی اپارٹمنٹس بنا کر مالکانہ حقوق پر فروخت کردیے جو الاٹمنٹ شرائط کی خلاف ورزی تھی۔کمپنی نے 240اپارٹمنٹس سات ارب سترہ کروڑ گیارہ لاکھ روپے میں فروخت کردیے جس میں سے کمپنی نے پانچ ارب 39کروڑ80لاکھ روپے وصول کرلئے۔ سی ڈی اے بورڈ نے 29جولائی 2016کے اجلاس میں پلاٹ کی الاٹمنٹ منسوخ کردی۔یہ تنسیخ عدالت میں چیلنج کردی گئی۔ اس دوران معاملہ سپر یم کورٹ میں پہنچ گیا۔ اس وقت چیف جسٹس ثاقب نثار تھے۔ 19جنوری 2019کو سپریم کو رٹ نے فیصلہ کردیا کہ بی این پی پہلے سے جمع کردی رقم سمیت سی ڈی اے کو کل 17ارب50کروڑ روپے جمع کرائے گا۔ یہ رقم مساوی آٹھ سالانہ اقساط میں ادا کی جائیں گی۔بی این پی نے سترہ ارب پچاس کروڑ روپے میں سے صرف دو ارب نوے کروڑ روپے جمع کرائے۔ اس طرح پلاٹ ریگولر ائز ہوگیا لیکن 2023میں نادہندہ ہونے پر سی ڈی اے نے دو بارہ پلاٹ کی لیز منسوخ کردی جس کے خلاف بی این پی نے اسلام آ باد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ اسلام آ باد ہائی کورٹ نے یہ پٹیشن جمعرات کے روز خارج کردی ۔سی ڈی اے انتظامیہ نے فیصلہ اپنے حق میں اآتے ہی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اپریشن کیا اور پلاٹ کا قبضہ لےلیا۔ وزیر داخلہ سید محسن نقوی اور چیئر مین سی ڈی اے سہیل ا شرف خود موقع پر موجود رہے۔ پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔ مکینوں کو بارہ گھنٹے میں اپارٹمنٹ خالی کرنے کا نوٹس دیاگیا۔ان اپارٹمنٹس کی تعداد 253ہے جس میں سے بیشتر خالی ہیںجن کے مکین کبھی کبھار آتے ہیں لیکن بعض مستقل رہائش رکھتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جن الاٹیوں نے یہ اپارٹمنٹس کروڑوں روپے میں خریدے ہیں ان کا کیا مستقبل ہے ؟؟ کیا ان کی رقم ڈوب جائے گی؟؟ ان کی رقم بی این پی واپس کرے گا یا سی ڈی اے؟؟ ان سوالوں کے جواب وزیر اعظم کی تشکیل کردی کمیٹی کی سفارشات میں ملے گا جو اگلے ہفتے وزیر اعظم کو پیش کی جائیں گی۔ ون کا نسٹی ٹویشن ایو نیو ٹاور کے اپارٹمنٹس کے مالکان میں اہم سیا سی و کارو باری شخصیا ت شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان مالکان میں بعض نے اپنے نام پر اپارٹمنٹ لیا اور بعض نے اپنے عزیز و اقارب کے نام پر لئے ہیں۔ ان مالکان میںسابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان۔سابق وفاقی وزیرحماد اظہر، ‏، شاندانہ گلزار ، سابق وزیر برجیس طاہر، سابق نگران وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈناصرالملک ٗکشمالہ طارق‏، ٗ۔ فضیلہ عباسی و حمزہ عباسی ۔اسفندیار بھنڈارا ایم این اے۔شہزاد وسیم ۔فریال گوہر۔شعیب اختر کرکٹر۔جسٹس ریٹائرڈ اعجاز الاحسن ۔احمد مختار۔ شایہ حفیظ شیخ ۔ شیخ عامر حفیظ۔ سلمان بشیر۔ ا یڈمرل محمد آصف سندھیلہ ۔سابق آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر ۔نسیم زہرہ ۔ابصار عالم ۔جام کمال خان۔احسان مانی۔ شامل ہیں۔ جب نمائندہ جنگ نے ان افراد میں سے کچھ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے رقم دے کر یہاں اپارٹمنٹ خریدے تھے۔ تعمیراتی کمپنی اگر کسی فراڈ میں ملوث ہو تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ ہمارے پاس خرید وفروخت کے حوالے سے تمام دستاویزات موجود ہیں۔

اہم خبریں سے مزید