• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیجیٹل اثاثہ جات کیلئے جامع ریگولیٹری فریم ورک بنا رہے ہیں، بلال بن ثاقب

لاہور( رپورٹ/ عمران احسان )لمز یونیورسٹی میں ڈیجیٹل اثاثوں اور بلاک چین کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی،وزیرِ مملکت و سپیشل اسسٹنٹ ٹو پرائم منسٹر آن بلاک چین اینڈ کرپٹو کرنسی و چیئرمین پی وی اے آر اے بلال بن ثاقب نے خطاب کرتے ہوئے کہا حکومت پاکستان بلاک چین ٹیکنالوجی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر ڈیجیٹل اثاثہ جات کیلئے جامع ریگولیٹری فریم ورک تیار کر رہی ہے، سابق وفاقی وزیر انوشہ رحمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت،  جدید انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد بن رہی ہیں  جبکہ وائس   چانسلر لمزیونیورسٹی ڈاکٹر علی چیمہ نے کہا کہ جامع فریم ورک تیار کرنا ہوگا،        بلال بن ثاقب نے کہا کہ  4 کروڑ پاکستانی ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق سرگرمیوں میں شامل ہیں، جو ایک طرف مالی شمولیت کے مواقع فراہم کرتے ہیں تو دوسری جانب ریگولیٹری چیلنجز بھی پیدا کرتے ہیں،حکومت اس شعبے کو باضابطہ شکل دینے پر کام کر رہی ہے جس میں کروڑوں افراد بغیر کسی ریگولیٹری نگرانی کے سرگرم ہیں، حکومتی پالیسی کا مقصد ان صارفین کو باضابطہ مالیاتی نظام میں لانا، صارفین کا تحفظ یقینی بنانا اور جدت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، ریگولیشن کی رفتار کو ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ناگزیر ہے تاکہ غیر منظم مارکیٹس سے جڑے خطرات پر قابو پایا جا سکے، پاکستان کو سالانہ تقریباً 38 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوتی ہیں اور بلاک چین پر مبنی نظام سرحد پار ادائیگیوں کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں، واضح ریگولیشن عالمی ڈیجیٹل مارکیٹس میں پاکستان کی مسابقت بڑھا سکتی ہے، انوشہ رحمان نے کہا کہ پاکستان اور دنیا میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے مؤثر ریگولیٹری فریم ورک ناگزیر ہے۔

اہم خبریں سے مزید