اسلام آباد (عاصم جاوید) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیوکیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے لیز منسوخی کیخلاف درخواست مسترد کردی ، عدالت نے اربوں روپے کی نادہندگی کے باعث ون کانسٹیٹیوشن ایونیو پراجیکٹ کیلئے لیز منسوخی کے سی ڈی اے آرڈر کو قانون کے مطابق اور سپریم کورٹ کی جانب سے دئیے گئے حقِ تنسیخ کے براہِ راست استعمال کا نتیجہ قرار دیا ۔چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے بی این پی کمپنی کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست مسترد جبکہ الاٹیز کی درخواستیں نمٹا دیں ۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے نہ صرف ریاست بلکہ الاٹیز کے مفادات کو بھی نقصان پہنچایا، درخواست گزار کمپنی نے سپریم کورٹ کے دئیے گئے لائف لائن موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا اور قسط کی عدم ادائیگی دانستہ ڈیفالٹ کے زمرے میں آتی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 2019 میں لیز بحال کرتے ہوئے درخواست گزار کمپنی بی این پی کو 17.5 ارب روپے آٹھ سالانہ اقساط میں ادا کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد 2021 میں 2.91 ارب روپے کی صرف پہلی قسط جمع کرائی گئی۔ 2023 میں دوبارہ لیز منسوخی کے وقت درخواست گزار کمپنی کے ذمے تقریباً 14 ارب روپے کی ادائیگی باقی تھی۔