اسلام آباد( خالد مصطفیٰ ) مشرقِ وسطیٰ میں اچانک بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشیدگی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس نے اجناس، اسٹاک مارکیٹس اور مہنگائی کی توقعات کو متاثر کیا۔ یہ خدشات فجیرہ آئل پورٹ کے قریب اہم تیل تنصیبات اور آبنائے ہرمز کی شپنگ لائنز کو لاحق خطرات کے باعث پیدا ہوئی، جو عالمی خام تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے۔تیل کی قیمتوں نے فوری ردعمل دیا۔ برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 113.87 ڈالر فی بیرل (+5.27 فیصد) تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 105.37 ڈالر (+3.36 فیصد) تک بڑھ گیا۔ خطے کے دیگر بینچ مارکس میں بھی اضافہ ہوا، دبئی کروڈ تقریباً 105.70 ڈالر پر برقرار رہا، جو پہلے ہی بحران کی سطح پر بلند تھا۔