کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ، ریڈ لائن منصوبہ کی تاخیر پراظہار تشویش، اے جی سندھ اور ٹرانس کراچی کے وکیل سے حتمی دلائل طلب ،جسٹس محمد سلیم جیسر کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی، اتنا بڑا منصوبہ اور ڈیزائن نامکمل ،جسٹس سلیم جیسرکے ریمارکس،سندھ ہائی کورٹ نے ریڈ لائن میں غیر ضروری تاخیر پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساری عمر منصوبے پر کام کرنے کی زمہ داری نہیں دی جا سکتی، آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ٹرانس کراچی کے وکیل سے حتمی دلائل بھی طلب کرلئے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد کے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 15 اپریل کو ایک اسٹیشن کا ریوائز اسٹیشن کی ڈرائنگ دی گئی ہے۔ اس کے 5 دن بعد کنٹریکٹ ختم کرنے کا نوٹس دے دیتے ہیں کہ تاخیر ہماری وجہ سے ہورہی ہے۔ آج تک 15 اسٹیشنز کا ڈیزائن نہیں ملا۔ جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے استفسار کیا کہ اگر ڈرائنگ تک نہیں ملی تھی تو آپ نے کنٹریکٹ کیسے سائن کرلیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ڈبلیو شکل کے ڈیزائن پہلے دئیے گئے تھے اسکے بعد ڈیزائن بدل دیئے گئے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ تمام چیزیں کنٹریکٹ سائن کرنے سے پہلے نہیں ہوتی ہیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ جی بالکل تمام چیزیں پہلے ہوتی ہیں۔ 3 اعشاریہ 7 بلین روپے تاخیر کی وجہ سے میرے حق میں دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔ جب ڈیزائن ہی تاخیر سے ملیں گے تو کام کیسے وقت پر مکمل ہوگا۔