تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) آبنائے ہرمزمیں امریکا اورایران کے مابین جھڑپیں تیز‘امریکی بحریہ کی دوایرانی جہازوں پر گولہ باری ‘ناکارہ بنانے کا دعویٰ‘واقعے میں ایک ملاح جاں بحق ‘10زخمی ‘5لاپتہ ‘تہران کی جوابی کارروائیاں‘امریکی ڈسٹرائرز(جنگی جہاز)نشانہ ‘ امریکی جہازوں پر فائرنگ کی ویڈیو بھی جاری ‘ متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملے ‘تین افراد زخمی‘تہران نے ہرمز میں جہازوں کو آمد و رفت کی اجازت دینے اورٹول وصول کرنے کے لیے بحری اتھارٹی قائم کردی ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو کا کہنا ہےکہ ہمیں جمعہ کو کسی وقت تہران کی جانب سے جواب ملنے کی توقع ہے‘ امید ہے یہ ایک سنجیدہ پیش ہوگی اورایسا جواب ہوگاجو ہمیں سنجیدہ مذاکراتی عمل کی جانب لے جا سکے‘سرخ لکیر واضح ہے‘ اگر وہ امریکیوں کو دھمکائیں گے تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا‘ انہوںنے یہ سوال بھی اٹھایاکہ اٹلی ودیگر اتحادی ایران کا مقابلہ کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی واشنگٹن کی کوششوں میں ساتھ کیوں نہیں دے رہے۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاہے کہ جب بھی سفارتی حل میزپر آتا ہے توواشنگٹن ملٹری ایڈونچر کا انتخاب کرتا ہے‘ ایرانی کبھی دباؤ کے آگے نہیں جھکتے ‘قوم کے دفاع کے لیے ہماری تیاری 1000 فیصد جبکہ ہمارے میزائل کے ذخائر اور لانچرز کی صلاحیت120فیصد ہے ‘ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واشنگٹن کو خبردارکیاہے کہ شیر کے نوکیلے دانت دیکھ کر یہ مت سمجھنا کہ شیر مسکرا رہا ہے‘ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محمد مخبر کے مطابق ہرمز کا کنٹرول ایٹم بم جتنا قیمتی ہے ‘دستبردار نہیں ہوں گے‘ ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے رُکن علی خضریان نے الزام عائد کیا ہے کہ امارات نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران اہم عسکری اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کیا‘ ایران امارات کو ہمسایہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک دشمن ٹھکانے کے طور پر دیکھتا ہے‘ایران کی کردستان ریجن کے حوالے سے سکیورٹی حکمت عملی میں اب متحدہ عرب امارات کو بھی شامل کر لیا گیا ہے اور انہیں کسی بھی وقت اس بات کی توقع رکھنی چاہیے کہ جس طرح اربیل میں دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسی طرح امارات میں موجود اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ادھر صدرٹرمپ نے کہاہے کہ ہرمز میں تہران نے ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ‘ہم نے انہیں اڑاکررکھ دیاتاہم اس کے باوجود جنگ بندی برقرار اوربات چیت جاری ہیں‘ پاکستان نے مذاکرات کے دوران ایران کے ساتھ فوجی تصادم سے گریز کا مشورہ دیاتھا۔چین نے آبنائے ہرمز میں اپنے تیل بردار جہاز پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید اروانی کے مطابق آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے۔ایرانی پارلیمان کے رکن اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایک ہی غلطی کو دہرانے سے مختلف ردِعمل نہیں ملے گا، جواب صرف سخت ہوگا‘ایران کے نئے سمندری قوانین کا احترام کیا جائے۔عالمی توانائی ا یجنسی کا کہنا ہے کہ اگرضرورت پڑی تو ہم تیل کے بڑے ذخائر جاری کرنے کے لیے تیار ہیں ۔تفصیلات کے مطابق امریکا سینٹرل کمانڈکا کہنا ہے کہ خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو ایرانی پرچم والے خالی ٹینکرز پر گولہ باری کر کے انہیں ناکارہ کر دیا گیا ہے‘فارس نیوزایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی مسلح افواج اور امریکی نیوی کے درمیان جھڑپیں تیزہوگئی ہیں‘ایک ایرانی اہلکار نے جمعے کے روز بتایا کہ آبنائے ہرمز میں رات بھر ہونے والے امریکی حملوں نے ایک ایرانی مال بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا جس سےایک ملاح جاں بحق ‘دس زخمی اور پانچ دیگر لاپتہ ہو گئے۔ صوبہ ہرمزگان کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایاگیاکہ امریکیوں کی جانب سے ہرمز اور بحیرہ عمان کے پانیوں میں کی گئی کارروائیوں کے دوران ایک مال بردار جہاز مناب کے پانیوں کے قریب ٹکرا گیا اور اسے آگ لگ گئی۔امریکی فوجی حکام نے این بی سی نیٹ ورک کو بتایا کہ انہوں نے قشم اور بندر عباس میں دو مقامات کو نشانہ بنایا لیکن یہ ایک دفاعی کارروائی تھی اور اس کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنا نہیں ہے۔این بی سی نیوز نے پنٹاگون حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی جہازوں نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں کارروائی کی ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کارروائی صرف اس وقت کی جب امریکی افواج نے اس کے ایک ٹینکر کو قبضے میں لینے کی کوشش کی۔ خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوجی دستوں نے امریکی حملوں کا جواب دیا‘ایران کی مسلح افواج نے فوری طور پر اور جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز کے مشرق میں اور چابہار بندرگاہ کے جنوب میں امریکی فوجی جہازوں پر حملہ کیا جس سے انھیں کافی نقصان پہنچا۔ادھر صدرٹرمپ نےکہا ہے کہ پاکستان شاندار رہا ہے اور اُن کے فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کی قیادت بھی شاندار رہی۔انہوںنے ہم سے کہا کہ ہم دوران مذاکرات حملے نہ کریں ‘اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ اس طرف جائیں گے‘ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، حالانکہ ایران نے تین امریکی ڈسٹرائرز پر حملہ کیا تھا۔علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ کا کہناتھاکہ انہوںنے ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ ہم نے انہیں اڑا کر رکھ دیا‘میں اسے ایک معمولی بات کہتا ہوں۔گولہ باری کے باوجود تین امریکی ڈسٹرائرز انتہائی کامیابی کے ساتھ ہرمز سے ابھی باہر نکلے ہیں‘ان تینوں ڈسٹرائرز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن ایرانی حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچا۔