• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی وزارت خارجہ نے خلیجی ملک سے اجتماعی بے دخلیوں کی تردید کر دی

کراچی (رفیق مانگٹ) پاکستانی وزارت خارجہ نے خلیجی ملک سے اجتماعی بے دخلیوں کی تردید کر دی۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھآ ان پاکستانیوں کو نکالا گیاجو مختلف جرائم میں ملوث تھے، ایک فرقے کو نشانہ بنانے کا تاثر درست نہیں۔  وزارت   داخلہ نے بتایا کہ غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کیا جائے، جعلی خبریں بدنیتحی اور مذموم مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں، پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک خلیجی ملک سے پاکستانیوں کی اجتماعی بے دخلی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صرف ان پاکستانیوں کو نکالا گیا جنہوں نے وہاں جرائم کیے تھے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق کسی مخصوص فرقے کو نشانہ بنانے کا تاثر درست نہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق خلیجی ملک نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ دریں اثنا وزارت داخلہ نے ایک اعلامیہ میں بے دخلیوں سے متعلق خبروں کو جعلی قرار دیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق کسی ملک یا فرقے کے خلاف ڈی پورٹیشن مہم نہیں چل رہی ہے۔ وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کیا جائے جعلی خبریں بدنیتی اور مذموم مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ایران جنگ میں ثالثی کی کوششیں ایک بڑے سفارتی بحران میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، جہاں ایک خلیجی ملک نے پاکستانی کارکنوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی شروع کر دی ہے، جس سے نہ صرف متعدد خاندان متاثر ہو رہے ہیں بلکہ پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی ترسیلات زر بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 20 سے زائد پاکستانیوں نے بتایا کہ گزشتہ مہینے انہیں اچانک گرفتار کر کے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں ملک بدر کر دیا گیا۔ پاکستان میں مخصوص فرقے کے مذہبی رہنماؤں کے مطابق وسط اپریل سے ہزاروں پاکستانیوں کو خلیجی ملک سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔

اہم خبریں سے مزید