• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فنانس بل 27-2026 میں ’’اسکروٹنی کمیٹی‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (مہتاب حیدر)فضول مقدمہ بازی کا خاتمہ: فنانس بل 27-2026 میں ’’اسکروٹنی کمیٹی‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ، ٹاسک فورس کی رپورٹ پر بڑا ایکشن: ایف بی آر میں ’’ممبر لیگل ریفارمز‘‘ کی نئی اسامی تخلیق کرنے کی سمری ارسال۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے فضول مقدمہ بازی کو کم کرنے کے لیے آئندہ فنانس بل 27-2026 میں ایک اسکروٹنی کمیٹی تجویز کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیلوں کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ قانونی فورمز پر غیر ضروری کیسز کے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور صرف میرٹ پر مبنی مقدمات ہی عدالتوں میں لے جائے جائیں۔ حکومت نے یہ اہم فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف اور کابینہ کے دیگر اراکین کو پیش کی گئی اس تفصیلی رپورٹ کی روشنی میں کیا ہے، جو شاد محمد کی سربراہی میں قائم کردہ ’’ٹاسک فورس برائے زیر التوا مقدمات‘‘ نے تیار کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی، ایف بی آر نے ممبر لیگل ریفارمز کی ایک نئی اسامی تخلیق کرنے کے لیے سمری بھی ارسال کر دی ہے، جس پر کسی سینئر افسر کی تعیناتی کا امکان ہے تاکہ ادارے میں ناگزیر قانونی اصلاحات کے عمل کو فوری طور پر شروع کیا جا سکے۔ ٹاسک فورس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام مقدمہ بازی کے ایک شدید اور بڑھتے ہوئے بحران کا شکار ہے۔ اپریل 2026 تک، ایف بی آر کے ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کے مجموعی طور پر تقریباً 85480 مقدمات سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور اپیلٹ ٹربیونلز میں زیر التوا ہیں، جن میں صرف کسٹمز کے شعبے کے 278.009 ارب روپے کے محصولات فعال تنازعات کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ’’ان لینڈ ریونیو کے اصل نقصانات یا اس میں پھنسی ہوئی رقم کا قابل بھروسہ تعین نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جیسا کہ اس رپورٹ میں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ درج ہے، ایف بی آر کا اپنا کیس ڈیٹا آزاد عدالتی ریکارڈ کے ساتھ مکمل طور پر غیر ہم آہنگ اور تضادات کا شکار ہے۔

اہم خبریں سے مزید