• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ طاس معاہدے کی معطلی پاکستان کیلیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے، ڈاکٹرنعیم خان

پورٹ لینڈ (نیوز ڈیسک) پاکستانی ماہرِ ماہی پروری اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر محمد نعیم خان نے خبردار کیا ہے کہ معاہدۂ سندھ طاس کی معطلی پاکستان کے دریائی نظام، آبی حیاتیاتی تنوع، ماہی گیری اور سندھ ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔امریکن فشریز سوسائٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خان نے"پاکستان کی آبی حیاتیاتی تنوع اور ایکوسسٹم پر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اثرات" کے عنوان سے ایک تحقیقی پاورپوائنٹ پریزنٹیشن پیش کی۔یہ کانفرنس 4 سے 7مئی 2026تک پورٹلینڈ میں منعقد ہوئی، جس میں دنیا بھر سے ماہرینِ ماہی پروری، ماحولیاتی محققین اور آبی وسائل کے ماہرین نے شرکت کی۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہ دریائے سندھ کا طاس، جو چین، بھارت، پاکستان اور افغانستان تک پھیلا ہوا ہے، دلدلی علاقوں، سیلابی میدانوں، دریائی جنگلات اور کئی نایاب آبی انواع کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے 1960کے معاہدۂ سندھ طاس، جس کی ثالثی ورلڈ بینک نے کی تھی، کو ایک تاریخی طور پر مضبوط معاہدہ قرار دیا جو جنگوں اور سیاسی کشیدگی کے باوجود برقرار رہا اور پاکستان و بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کو یقینی بناتا رہا۔بھارت کی جانب سے 2025 میں معاہدے کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدے سے متعلق تعاون، ڈیٹا شیئرنگ کے نظام اور آبی منصوبوں سے متعلق پیشگی اطلاعات کا سلسلہ رک گیا، جس کے نتیجے میں خصوصاً دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں تبدیلیاں آئیں۔ پریزنٹیشن کے مطابق مئی اور جون 2025 کے دوران بالائی ذخائر سے پانی کے اخراج میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس سے زیریں علاقوں میں غیر معمولی حد تک پانی کا بہاؤ کم ہوا۔پریزنٹیشن میں خبردار کیا گیا کہ ماحولیاتی بہاؤ میں رکاوٹ سے مچھلیوں کے افزائشی عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے، تلچھٹ کی منتقلی متاثر ہو سکتی ہے، پانی میں تحلیل شدہ آکسیجن کی مقدار کم ہو سکتی ہے اور سیلابی میدان دریائی دھاروں سے کٹ سکتے ہیں، جس سے پورا ماحولیاتی نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر خان نے کئی نایاب اور خطرے سے دوچار انواع کی حساسیت پر بھی روشنی ڈالی، جن میں انڈس ریور ڈولفن، گولڈن مہاشیر اور مقامی کیٹ فش کی اقسام شامل ہیں، جو مستحکم دریائی ماحول پر انحصار کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایمیزون سیل فن کیٹ فش جیسی حملہ آور انواع دریائے چناب میں بڑھتا ہوا خطرہ بن رہی ہیں۔ پریزنٹیشن میں مزید کہا گیا کہ سندھ ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی آمد میں کمی سمندری پانی کی دراندازی کو تیز کر سکتی ہے، مینگروو جنگلات کو نقصان پہنچا سکتی ہے، ماہی گیری کی پیداوار کم کر سکتی ہے اور ساحلی کٹاؤ میں اضافہ کر سکتی ہے، جس سے ساحلی آبادیوں کی غذائی سلامتی اور روزگار خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ علاقائی تناظر پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی “خطرات میں اضافہ کرنے والے عنصر” کے طور پر کام کر رہی ہے، جو سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور طاس میں نمکیات کے بڑھتے ہوئے اثرات کو مزید شدید بنا رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان دوبارہ تعاون، مضبوط ماحولیاتی حکمرانی، پورے طاس پر مبنی آبی نظم و نسق اور سائنسی اشتراک کو فروغ دینے پر زور دیا۔اپنی گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر خان نے کہا کہ دریائے سندھ کے طاس کا پائیدار انتظام باہمی تعاون کے بغیر ممکن نہیں، اور یہ کہ حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی بہاؤ کا تحفظ مستقبل کے کسی بھی آبی اشتراک کے نظام کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے۔
اہم خبریں سے مزید