• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کے پاس وقت محدود ہے، ٹرمپ، نئی امریکی جارحیت کو پوری قوت سے کچل دیا جائے گا، تہران

تہران /واشنگٹن(اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے محدود وقت بچا ہے ‘ان کے پاس دو‘ تین دن اور ہیں‘ شایدجمعہ ‘ ہفتہ ‘اتواریا اگلے ہفتے کی ابتدا تک کا وقت ہے‘امید کرتا ہوں کہ ہمیں جنگ کی طرف نہ جانا پڑے لیکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں انہیں ایک اور بڑا جھٹکا دینا پڑے‘ لگتاہے کوئی حل نکل آئےگا۔ دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا ہے کہ نئی امریکی جارحیت کو پوری طاقت سے کچل دیاجائے گا‘ٹرمپ دھمکی کو امن کا موقع قرار دے رہے ہیں جبکہ ایرانی فوج نےخبردارکیاہے کہ اگر واشنگٹن نے دوبارہ حملے شروع کیے تو وہ نئے محاذ کھول دے گی‘ مسلح افواج ٹریگر دبانے کے لیے مکمل تیار ہیں‘ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں ‘قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے‘متحدہ عرب امارات نے گزشتہ 48گھنٹوں میں6ڈرونز مارگرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے اس کے جوہری پاور پلانٹ پر حملہ عراق سے ہواتھا ‘نیٹو کے اعلیٰ ترین کمانڈر نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ یہ اتحاد آبنائے ہرمز میں کس طرح کردارادا کر سکتا ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ منصوبہ بندی شروع نہیں ہوئی ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم اگر کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو واشنگٹن فوجی آپریشنز دوبارہ شروع کرنے کیلئے ہر طرح سے تیارہے‘ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہاہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جانا چاہیے‘اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانا انتہائی اہم ہےجبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت کی ہے‘ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جرمن زبان میں بیان دیتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈرِش میرزپر دوغلے پن کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہاکہ ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت نہیں کی جاتی بلکہ انھیں جواز دیا جاتا ہے لیکن جب کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جسے انہوں نے فالس فلیگ آپریشن کہا اور جس کی ذمہ داری خود امارات نے بھی ایران پر نہیں ڈالی تو وہی آوازیں اچانک بین الاقوامی قانون اور علاقائی سلامتی کی بات کرنے لگتی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید