اسلام آباد( صالح ظافر ) روس نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی نہ صرف علاقائی تجارت بلکہ اہم اقتصادی و توانائی منصوبوں کو بھی متاثر کر رہی ہے، اور اگر دونوں ممالک چاہیں تو ماسکو ثالثی کے لیے تیار ہے۔یہ بات پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خیروف نے پیر کو روسی سفارت خانے میں میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان کشیدگی کے باعث بالخصوص دواسازی کے شعبے کی تجارت متاثر ہو رہی ہے جبکہ اہم علاقائی منصوبے بھی تاخیر کا شکار ہیں، جن میں ٹرانس افغان ریلوے، کاسا1000 اور 1814 کلومیٹر طویل پائپ لائن تاپی شامل ہیں۔