• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وائٹ ہاؤس کے باہر چیک پوسٹ پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک

فوٹو: بشکریہ انٹرنیشنل میڈیا
فوٹو: بشکریہ انٹرنیشنل میڈیا

امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ سیکریٹ سروس نے فائرنگ کرنیوالے شخص کو ہلاک کر دیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں پر فائرنگ کرنیوالے 21 سال کے نوجوان کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا، واقعہ میں ایک راہگیر بھی مارا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے دروازے پر تعینات سیکرٹ سروس اہلکاروں پر ایک مسلح شخص نے پستول سے فائرنگ کی تھی، واقعہ 17 اسٹریٹ اور پینسلوینیا ایونیو کے پاس پیش آیا۔ 

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور جذباتی طور پر پریشان تھا اور خود کو یسوع مسیح سمجھتا تھا، اس شناخت 21 برس کے Nasire Best کے نام سے کی گئی اور اسکا تعلق ریاست میری لینڈ سے تھا، مسلح شخص وائٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہوسکا۔

فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے قریب پیش آیا۔ یہ فائرنگ ایسے وقت کی گئی جب صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں تھے۔ فائرنگ کے سبب وائٹ ہاؤس کو کچھ وقت کے لیے لاک ڈاون کرنا پڑا تاہم بعد میں لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا۔ 

کئی صحافیوں کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے باہر 30 گولیاں چلائی گئیں، اسنائپرز کو وائٹ ہاؤس کی چھت پر تعینات کردیا گیا۔ 

اے بی سی نیوز کی خاتون صحافی امریکا ایران مجوزہ معاہدے پر لائیو رپورٹنگ کررہی تھی جس وقت یہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ 

فائرنگ بڑھی تو صحافی خوفزدہ ہوئی اور خود کو محفوظ مقام پرمنتقل کرنے کی کوشش کرتی نظر آئی۔



قبل ازیں روسی میڈیا کے مطابق گولیاں چلانے کی درجنوں آوازیں سنی گئی۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ فائرنگ کیوں کی گئی اور کس نے فائرنگ کی۔ 

بعض رپورٹس کے مطابق سیکریٹ سروس کے اہلکاروں نے نارتھ لان میں جمع صحافیوں سے کہا ہے کہ وہ پریس بریفنگ روم میں چلے جائیں جبکہ صدر ٹرمپ کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید