اسلام آباد (ناصر چشتی )پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے معیار کے مطابق کیے گئے تجزیے کے دوران 228 بوتل بند / منرل واٹر برانڈز کے نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے 35 برانڈز کا پانی مختلف کیمیائی اور جرثومی آلودگیوں کی وجہ سے انسانی صحت کیلئے غیر محفوظ قرار دیا گیا، 10 برانڈزمیں سوڈیم کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی، 25 برانڈز میں جراثیمی آلودگی پائی گئی،موقف لینے کیلئے ان کمپنیوں کے ترجمانوں سے رابطہ کیا گیا جس پو ان کا کہنا تھا کہ ہمارا پانی معیاری اور محفوظ ہے،اور ہم اس سلسلے میں مزید اقدامات بھی کریں گے،پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز نے عوام الناس کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں بوتل بند / منرل واٹر برانڈز کے معیار کی نگرانی جاری رکھتے ہوئے سہ ماہی بنیادوں پر مختلف برانڈز کے نمونوں کا تجزیہ کیا ۔ان 35 برانڈز میں سے 10 برانڈز (بروک لین، اے ٹو زیڈ، جیول، جاس، وائٹ واٹر، رین ڈراپ، اکوا ہیلتھ، سپر ڈراپ، نیسلے پیور لائف اور بلیو واٹر) میں سوڈیم کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی۔