• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہرمُز کی ناکہ بندی ختم، معاہدہ جلد، ٹرمپ، امریکا پر بھروسہ نہیں، عملی اقدام ہونا چاہئے، ایران

واشنگٹن ، تہران (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں پھنسے ہوئے جہاز اور ان کا عملہ ’گھر واپسی‘ کی تیاری کریں، ان کا کہنا ہے کہ تہران کیساتھ معاہدہ جلد ہوجائے گا ، ایران بھی بغیر فیس کے بحری گزر گاہ کھولنے کا پابند ہوگا،تہران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکے گا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیساتھ حتمی معاہدے پر سچویشن روم میں اپنے اہم مشیروں کا اجلاس بھی منعقد کیا تاہم ملاقات کے اختتام پر کسی حتمی نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا ،امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران کیساتھ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں تاہم یورینیم کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں، ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ انہیں امریکا پر بھروسہ نہیں ہے، عملی اقدام ہونا چاہئے،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کیساتھ حتمی معاہدہ نہیں ہوا ، ہرمز کے انتظام کا معاملہ ایران اور عمان مل کر طے کریں گے ، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کیساتھ معاہدے کا انحصار اسی پر ہے کہ امریکا بے جا مطالبات سے دستبردار ہوجائے ،ایرانی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا کیساتھ معاہدے میں 12ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی فوری ادائیگی ،لبنان میں حزب اللہ کے نکتہ نظر کے مطابق مکمل جنگ بندی ہوگی، نیوکلیئر معاملے پر کوئی بات شامل نہیں ہے۔بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی صورت میں قازقستان ایران کے ہتھیاروں کے معیار کے قریب افزودہ یورینیم کا ذخیرہ اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیوں تسنیم اورمہر نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی فوج کے فضائی دفاعی نظام نے دشمن کےایک ڈرون کا پتا لگا کر اسے جزیرہ قشم کے قریب تباہ کر دیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک نوٹس کے مطابق، امریکا نے جمعہ کے روز انسدادِ دہشت گردی کے تحت نئی پابندیاں عائد کی ہیں جن میں دیگر کے علاوہ ایرانی افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔قبل ازیں ایک سینئر ایرانی ذرائع نے برطانوی نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ تہران اور واشنگٹن ایک "سیاسی مفاہمت" پر پہنچ گئے ہیں، تاہم معاہدے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے جمعہ کے روز باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات "سچ اور جھوٹ کا پلندہ" ہیں۔ایجنسی نے کہا، "ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران بلا معاوضہ (بغیر کسی ٹول ٹیکس کے) آبنائے ہرمز کھولنے کا پابند تھا، حالانکہ معاہدے کے متن میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ٹرمپ کے اس دعوے پر کہ واشنگٹن اور تہران ایران کے افزودہ یورینیم کو تلف کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے، ایجنسی نے مزید کہا: "باخبر ذرائع نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ نہ صرف مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) میں شامل نہیں ہے، بلکہ یہ دعویٰ سرے سے ہی بے بنیاد ہے۔"ایرانی ذرائع کے مطابق ایران کا مطالبہ ہے کہ اس کے منجمد کئےگئے 12 ارب ڈالر کے اثاثے فوری ادا " کئے جائیں، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ "جب تک یہ ادائیگی نہیں ہو جاتی، ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے کی طرف پیش رفت نہیں کرے گا۔"لبنان کے حوالے سے ذرائع نے تہران کے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ "حزب اللہ کے نکتہ نظر کے مطابق مکمل جنگ بندی" کی جائے، اور مزید کہا کہ اس جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی پر "فوری جوابی کارروائی" کی جائے گی۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران ایک مفاہمت کی یادداشت کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے تحت جنگ بندی میں 60 دنوں کی توسیع کی جائے گی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا اور تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔ یورنیم پر اختلافات برقرار ہیں، اس مفاہمت کی یادداشت پر دستخط جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے اہم سفارتی کامیابی ہوگی، تاہم صدر ٹرمپ کے جوہری مطالبات سے نمٹنے کے لیے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید گہرے اور سخت مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ ایران کے اعلیٰ سفارت کار عباس عراقچی نے اپنے عمانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لئے امریکا کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ واشنگٹن اپنے "بے جا مطالبات" سے دستبردار ہو۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے دونوں وزراء کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے جاری کردہ خلاصے کے مطابق"ایرانی وزیرِ خارجہ نے اشارہ دیا کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کا انحصار امریکی فریق کے بے جا مطالبات پر مبنی رویے کے خاتمے اور اپنے بدلتے ہوئے اور متضاد موقف کو ترک کرنے پر ہے۔"ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ تہران نے مذاکرات کے دوران ’رعایتیں میزائلوں کے ذریعے حاصل کی ہیں، بات چیت کے ذریعے نہیں۔‘سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ضمانتوں اور لفظوں پر اعتماد نہیں بلکہ عملی اقدام پر ہے۔ دوسرے فریق کی کسی کارروائی سے قبل ہماری طرف سے بھی کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔‘’اس معاہدے میں فاتح وہی ہوگا جو اس کے اگلے ہی روز سے جنگ کے لیے تیار ہوگا۔‘جمعے کو ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ایران سے مذاکرات کے حوالے سے اپنی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ ’تاحکمِ ثانی پیسوں کا کوئی تبادلہ نہیں ہوگا۔ دیگر کم اہمیت کے حامل نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔‘’اب میں ایک اجلاس کے لیے سچوئیشن روم میں جا رہا ہوں اور حتمی فیصلہ کروں گا۔‘ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کرنا ہوگا۔آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلنی چاہیے، بحری ٹریفک کی بلاتعطل روانی جاری رہنی چاہیے اور کسی بھی قسم کے ٹول کی وصولی نہیں ہونی چاہیے۔آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی زیادہ تر سرنگیں امریکا مائن سوئپرز پہلے ہی تباہ کر چکے ہیں اور جو اب بھی باقی ہیں وہ ایران فوری طور پر ہٹائے گا۔امریکا، بین الاقوامی توانائی ایجنسی اور ایران کے’قریبی تعاون‘ سے منہدم پہاڑوں کے نیچے زیرِ زمین دفن افزودہ یورینیم نکالے گا اور ’تباہ‘ کر دے گا۔

اہم خبریں سے مزید