• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا، ٹی وی مباحثے میں مسلمان صحافی اور اسرائیلی فوجی ترجمان کے درمیان تاریخی مکالمہ

کراچی (رفیق مانگٹ)معروف برطانوی صحافی پیئرز مورگن کے پروگرام میں ایک انتہائی شدید اور متنازع بحث کا انعقاد ہوا، جس میں امریکی برطانوی صحافی مہدی حسن اور اسرائیلی فوج کے ترجمان (ریزروسٹ) ڈورون اسپیل مین نے آمنے سامنے ہو کر مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، ایران کے جوہری پروگرام، اسرائیل کی غیراعلانیہ جوہری صلاحیتوں، غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں اور دہشت گردی کے تاریخی بیانیوں اور دہرے معیار پر گرما گرمی سے بحث کی۔ یہ مباحثہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جہاں صارفین نے اسے دہائی کی شدید ترین بحث"قرار دیا ہے۔بحث میں بچوں کی ہلاکت اور جنگی بیانیے پر سخت بحث، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اسرائیل کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے مہدی حسن نےسوال کیا کہ آخرایک سالہ بچہ کیسے دہشت گرد ہو سکتا ہے؟ اس کی شہادت پر اپ کو شرم نہیں آتی،اس پر اسرائیلی فوجی ترجمان نے مبہم جواب دیتے ہوئے کہا کہ بچے کی ہلاکت بدقسمتی تھی وہ حزب اللہ کے ٹھکانے کے قریب تھا۔تفصیلات کے مطابق اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ڈورون اسپیل مین نے ایران کو مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا دہشت گرد ریاست قرار دیا اور کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہونے سے روکنا عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے 1936 کی نازی جرمنی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اب ایران کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں جوہری نائن الیون کا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ اسپیل مین نے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ لبرل مغربی طبقہ آکسفورڈ میں بیٹھ کر ایران سے منطقی استدلال کا خواب دیکھ رہا ہے، جبکہ ایران حقیقت میں اپنے ہی شہریوں کو قتل کرنے والی ریاست ہے۔مہدی حسن نے فوری جواب دیتے ہوئے اسپیل مین کے موقف کو خود کی غلطیوں کا دوسروں پر الزام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کسی کے پاس جوہری ہتھیار ہیں تو وہ اسرائیل ہے نہ کہ ایران۔ انہوں نے تین سوالات اٹھائے،اول خطے میں واحد ملک جس نے نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی پر دستخط نہیں کیے وہ اسرائیل ہے، دوم، واحد ریاست جس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 487 (1981ء) کی خلاف ورزی کی وہ بھی اسرائیل ہے، اور سوم،گذشتہ سال واحد ملک جس نے چھ مختلف ممالک پر بمباری کی وہ پھر اسرائیل تھا۔مہدی حسن نے کہا کہ عالمی عوامی رائے واضح ہے،اسرائیل خطے کے لیے امن کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔

اہم خبریں سے مزید