لاہور (عمران احسان سے)معاشی و معاشرتی بحران،پنجاب میں طلاق ،خلع لینے کے واقعات میں 5فیصد اضافہ، سوشل میڈیا،موبائل فونز کا استعمال ،علیحدہ گھر کا مطالبہ، کم آمدنی، نشہ، بیروزگاری، سسرال کی مداخلت،تشدد اہم وجوہات۔5 سالوں میں طلاق کے کیسوں کی تعداد 3 لاکھ 47 ہزار جبکہ خواتین کے دائر خلع کے کیسوں کی تعدادایک لاکھ 14 ہزار رہی۔نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خاندانی مشاورت، ذہنی صحت اور مالی استحکام پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ ملک بھر میں معاشی اور معاشرتی بحران کا نتیجہ، پنجاب میں گذشتہ پانچ سالوں میں طلاق و خلع کی ڈگریاں جاری کرنیکی شرح 5.118 فیصد بڑھ گئی،عدالتی کیسوں میں شادیاں ٹوٹنے کی وجوہات میں سوشل میڈیا،موبائل فونز کاا ستعمال سرفہرست، علیحدہ گھر کا مطالبہ پورا نہ ہونا دوسرے نمبر پر، دیگر وجواہات میں مردوں کی کم آمدنی ،نشہ ،بے روزگاری، سسرال کی مداخلت ، گھریلو تشدداور بے وفائی شامل ہیں ، پنجاب میں پانچ سالوں میں طلاق کے کیسوں کی تعداد 3 لاکھ 47 ہزار جبکہ خواتین کے دائر خلع کے کیسوں کی تعدادایک لاکھ 14 ہزار رہے، مجموعی طور پر طلاق کی شرح 75 فیصد اور خلع کی شرح 25 فیصد ہے، شہری علاقوں میں طلاق کی شرح دیہی علاقوں سے بہت زیادہ ہے، طلاق اور خلع کے سرٹیفکیٹس کے اجراء میں لاہور پہلے نمبر پر ،فیصل آباد دوسرے ، شیخوپورہ تیسرے نمبر پر ہے۔