پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر پارلیمنٹرینز کی گلگت بلتستان میں گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ " اگر ہمارے پارلیمنٹیرینز کو جلد رہا نہیں کیا گیا تو گلگت بلتستان کی کٹھ پتلی حکومت اور وہاں جعلی حکومت بنانے کیلئے سرگرم عناصر سے اپنے پارلیمینٹیرینز کے ساتھ ناروا سلوک کے بارے میں سوال کرنے کیلئے خود گلگت بلتستان جاوں گا" وزیر اعلیٰ گلگت کال نہیں اٹھا رہے ہیں،۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسے رویے پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان اقدامات سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں جبکہ اس قسم کے طرزِ عمل سے تقسیم پیدا ہو رہی ہے جن کا کام عوامی مینڈیٹ کی حفاظت ہے، وہی ہمیشہ پاکستانیوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، انہوں نے کہا کہ الیکشن میں لیول پلینگ فیلڈ نہ دینے، زور زبردستی، ظلم و جبر کے ذریعے بانی چیئرمین عمران خان کی پارٹی کو مائنس کرنے کی کوششوں سے جمہوری نظام کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نےکہا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ان کی کال کا جواب نہیں دے رہے، جو ایک غیر جمہوری اور غیر سیاسی رویہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کو نو گو ایریا نہیں بننے دیں گے۔ گلگت بلتستان غیرتمند لوگوں کا علاقہ ہے اور وہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام اپنے مہمانوں کی اس بے عزتی کا بدلہ آئندہ الیکشن میں ووٹ کے ذریعے لیں گے۔