• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

PTI کے پی میں شدید اختلافات، پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، 30 ناراض ارکان شریک نہ ہوئے

پشاور (ارشد عزیز ملک ) تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے خیبرپختونخوا اسمبلی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 30 سے زائد اراکین غیر حاضر رہے۔خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا۔ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کےاجلاس میں ناراض اراکین نے شرکت نہیں کی اور 92 اراکین پرمشتمل پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 30 سے زائد اراکین غیرحاضر رہے۔صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان  نے جنگ کو بتایا کہ تمام اراکین وزیراعلی کی قیادت میں متحد ہیں 75 اراکین نے اجلاس میں شرکت جبکہ پانچ صوبے میں موجود نہیں تھے  انھوں نے کہا کہ ارکان صوبائی اسمبلی میں سے جو فارورڈ بلاک میں گیا اس پر خیبرپختونخوا کی زمین تنگ کر دی جائے گی، وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا کہ وٹس ایپ پیغام میں سہیل آفریدی نے کسی نام نہیں ایک عام سے بات کی  ۔وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروپیگنڈے کے باوجود ایم پی ایز کی اجلاس میں شرکت اتحاد کا واضح ثبوت ہے، اجلاس میں شرکت پر اراکین اسمبلی کو خوش آمدید کہتا ہوں، نہ ہمیں کوئی توڑ سکتا ہے اور نہ ہی عمران خان کے نظریے سے پیچھے ہٹا سکتا ہے ، سہیل آفریدی نے کہا کہ مخالفین نے بھرپور کوشش کی ہمارے مابین توڑ پیدا کریں مگر کثیر تعداد میں آپکی شرکت ان کے منہ پر تھپڑ ہے، آج کے اجلاس کا ایجنڈا عمران خان کی صحت اور آئندہ مالی سال کے بجٹ پر پارلیمنٹیرینز کو اعتماد میں لینا ہے ،قبل ازیں وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں جاری سخت پیغام اور اس پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ردعمل نے صوبے کی سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں اراکین اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:“پارٹی کے اندر کے جرنیل نے پارٹی کے باہر کے جرنیل سے وعدہ کیا ہے۔ کچھ عناصر پارلیمانی اجلاس ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ پارٹی کے اندر ایک جرنیل نے 27 ایم پی ایز ساتھ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اندرونی جرنیل نے عمران خان کی حکومت گرانے کا وعدہ کیا ہے۔ تمام اراکین آج شام 7 بجے وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچیں۔ کسی کا باپ بھی عمران خان کی حکومت نہیں گرا سکتا۔ دنیا کی تمام اسٹیبلشمنٹ بھی مل جائے تو حکومت نہیں ہلا سکتی۔ پارٹی کے اندر سازشوں کی اطلاعات ہیں، اس لیے تمام اراکین متحد رہیں۔ اجلاس کی کامیابی بعض لوگوں کو قبول نہیں۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ ممبران اسمبلی تمام مصروفیات چھوڑ کر اجلاس میں شرکت یقینی بنائیں۔”وزیراعلیٰ کے اس غیر معمولی اور سخت لہجے پر مبنی پیغام کے بعد سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی پارلیمانی گروپ میں ردعمل دیتے ہوئے نام لیے بغیر الزامات لگانے پر اعتراض کیا۔علی امین گنڈاپور نے اپنے پیغام میں لکھا:"اس کا، اس کی، تم نام کیوں نہیں لیتے؟اگر کوئی عمران خان کے خلاف سازش کر رہا ہے تو نام لیا جائے،صوبہ آپ سے کنٹرول نہیں ہوتا اور دوسروں پر الزام لگا رہے ہیں، پارٹی رہنماؤں میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا درست نہیں، ہم پہلے بھی عمران خان کے ساتھ تھے اور آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے، علی امین کی ردعمل کے بعد وٹس ایپ گروپ میں خاموشی چھا گیےسیاسی مبصرین کے مطابق علی امین گنڈاپور کا یہ ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو پارٹی کے اندر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور بعض رہنما خود کو ان اشاروں کا مخاطب سمجھ رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پیغام میں “اندرونی جرنیل”، “بیرونی جرنیل” اور “27 اراکین اسمبلی” جیسے الفاظ نے پارٹی کے اندر جاری اختلافات اور ممکنہ گروپ بندیوں کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے جن عناصر کی جانب اشارہ کیا ہے، آیا وہ واقعی حکومت کے خلاف کسی منظم حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں یا یہ محض اندرونی سیاسی کشیدگی کا اظہار ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان سامنے آنے والی یہ تلخی حکمران جماعت کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاس ہے۔ آنے والے دنوں میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس اور پارٹی قیادت کے فیصلے یہ طے کریں گے کہ یہ اختلافات وقتی نوعیت کے ہیں یا صوبائی حکومت کے لیے ایک بڑے سیاسی چیلنج کی شکل اختیار سکتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید